نیپال میں 20 برسوں کے بعد بلدیاتی اداروں کے لئے پولنگ ، پہلے مرحلے کی پولنگ جاری

May 14, 2017 01:59 PM IST | Updated on: May 14, 2017 01:59 PM IST

کھٹمنڈو : نیپال میں خانہ جنگی کے خاتمے کے ایک دہائی بعد اور تقریبا 20 برسوں کے وقفے پر مقامی بلدیاتی اداروں کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے لئے آج پولنگ ہو رہی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ دو مراحل میں ہونے والے مقامی انتخابات اسی سال ہونے والے عام انتخابات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس ہمالیائی ملک کے مقامی اداروں میں گزشتہ 20 سالوں سے نمائندوں کا انتخاب نہیں کیا جا رہا تھاجس کا براہ راست اثر وہاں کی ترقی پر پڑا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریبا 49 لاکھ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ دوسرے مرحلے کا انتخاب 14 جون کو ہوگا۔

کھٹمنڈو پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے دفتر نے بتایا کہ پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ پرامن طریقہ سےجاری ہے۔ پہلے مرحلے میں تین صوبوں کے 283 بلدیاتی اداروں میں سے 281 پر الیکشن ہو رہے ہیں جبکہ دو مقامی اداروں میں امیدوار بلامقابلہ منتخب کر لئے گئے ہے۔ کمیشن نے کہا کہ لوگ اس الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعظم پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘نے چٹوان ضلع کے بھرت پور میٹروپولس -4 کے لانك اسکول پولنگ مرکز میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد وزیر اعظم نے میڈیا سے کہا کہ لوگ اس تاریخی انتخابات میں بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔ ووٹروں کے حوصلے بلند ہیں۔ مسٹر پرچنڈ نے کل ووٹروں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولنگ مراکز تک پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں تمام ووٹروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس تاریخی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔

نیپال میں 20 برسوں کے بعد بلدیاتی اداروں کے لئے پولنگ ، پہلے مرحلے کی پولنگ جاری

تقریبا ایک دہائی تک جاری رہنے والی ماؤنواز انتہا پسندی 2006 میں ختم ہوئی اور اس کے دو سال بعد بادشاہت کے خاتمے جیسے بڑے اقدام کی وجہ سے نیپال گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی عدم استحکام سے گزر رہا ہے۔ اس جمہوری سفر کو 2015 میں اس وقت ایک جھٹکا لگا جب کچھ علاقائی جماعتوں نے بڑے سیاسی جماعتوں کی طرف سے منظور آئین کو مسترد کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر منتخب سرکاری اداروں کی غیر موجودگی سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ آئی اور اس میں کافی تاخیر ہوئی، بدعنوانی کو فروغ ملا اور 2015 میں آئے دو بڑے زلزلوں سے تباہ ہوئے علاقوں کی تعمیر نو کا کام متاثر ہوا۔ زلزلے سے تقریبا 9،000 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔

ملک کا سب سے بڑا المیہ بے گھر لوگوں کو جائے پناہ دینا ہے۔متاثرین اب بھی ترپال اور بانس سے بنے عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ تعمیر نو کے لئے مدد کے طور پر ملے 4.1 ارب امریکی ڈالر خرچ کرنے میں ناکام رہنے کے لئے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ 14 جون کو ہونا ہے۔ آخری مرحلے میں جنوبی میدانی علاقوں میں انتخابات ہونے ہیں جہاں اقلیتی گروپ مزید مناسب نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز