اب گوئٹے مالا کا اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان، یو این میں امریکہ کی حمایت میں کی تھی ووٹنگ

گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

Dec 25, 2017 12:17 PM IST | Updated on: Dec 25, 2017 01:51 PM IST

گوئٹے مالا سٹی: گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کی تھی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔اس قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک پوسٹ میں صدر جمی موریلس نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات کرنے کے بعد کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں امریکہ کی یروشلم سے متعلق قراداد کے حق میں ووٹ دینے والے فقط سات ممالک میں سے ایک گوئٹے مالا بھی تھا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کو امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اب گوئٹے مالا کا اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان، یو این میں امریکہ کی حمایت میں کی تھی ووٹنگ

وسطی امریکہ کے غریب ملک گوئٹے مالا کو امداد دینے والے اہم ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔اتوار کو اپنے بیان میں صدر مویلس نے کہا کہ انھوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے پہلے ضروری اور متعلقہ اقدامات کر لیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوئٹے مالا اسرائیل کا دیرینہ دوست ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلمی نے یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد پر بڑے پیمانے پر ووٹ ڈال کر امریکہ پر اپنا واضح نکتہ نظر ظاہر کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز