امریکہ اورقطر کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سمجھوتہ ،عرب ممالک نے بتایا ناکافی

Jul 12, 2017 10:17 PM IST | Updated on: Jul 12, 2017 10:17 PM IST

ریاض : عرب ریاستوں نے انسداد دہشت گردی کے تناظر میں قطر اور امریکا کے مابین طے پانے والے معاہدے کو ناکافی قرار دیا ہے۔ دوحہ اور واشنگٹن نے دہشت گردی کے لیے مالی تعاون کو مل کر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ سعودی عرب کے ’ایس پی اے‘ نامی خبر رساں ادارے کی جانب سے شائع کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’یہ اقدام کافی نہیں ہے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ چاروں عرب ریاستیں قطر کی جانب سے دہشت گردی میں مالی تعاون اور اس کے فروغ کے خلاف دوحہ حکومت کے اقدامات کا بہت سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہیں۔

ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام کی خبر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورہ قطر کے دوران دونوں حکومتوں کے مابین مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ ٹلرسن اور ان کے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ میں اس معاہدے کے بارے میں اعلان کیا تھا۔ ٹلرسن کے بقول، ’’یہ معاہدہ مئی میں ریاض میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے طے کیا گیا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کو دنیا سے مٹانا ہے۔‘‘ٹلرسن قطری تنازعے کے حل کے لیے خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں۔ وہ پیر کے روز کویت پہنچے تھے اور کل جمعرات تک وہ خطے میں رہیں گے۔ اس موقع پر شیخ الثانی نے کہا کہ قطر واشنگٹن کے ساتھ انسداد دہشت گردی کا معاہدہ کرنے والی خطے کی پہلی ریاست ہے۔

امریکہ اورقطر کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سمجھوتہ ،عرب ممالک نے بتایا ناکافی

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کے ایک مشترکہ بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ قطری یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ماضی میں اس تناظر میں کیے جانے والے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔‘‘ ان عرب ریاستوں نے اس سلسلے میں سخت نگرانی کا مطالبہ کیا تاکہ دوحہ کو اس کے ’اصل اور حقیقی راستے‘ پر واپس لایا جا سکے۔ اس بیان کے مطابق قطر جب تک تیرہ شرائط پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد نہیں کرتا، اس کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز