علی گڑھ انکاونٹر : "سچ چھپانے کیلئے بجرنگ دل کا استعمال کررہی ہے پولیس "۔

ایک پیشہ ور مجرم میری گاڑی پر اینٹ مارتا نظر آرہا ہے ، سوال یہ ہے کہ ایک مجرم جس کے خلاف عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہو ، وہ پولیس کے سامنے کیسے گھوم رہا ہے ۔

Oct 11, 2018 05:03 PM IST | Updated on: Oct 11, 2018 05:03 PM IST

۔"اترولی ، علی گڑھ پوری طرح سے بجرنگ دل کے کنٹرول میں ہے۔پولیس ان کا استعمال فرضی انکاونٹر کا سچ چھپانے کیلئے کررہی ہے۔ اترولی محل کا ایک ویڈیو سامنےآیا ہے ، ایک پیشہ ور مجرم میری گاڑی پر اینٹ مارتا نظر آرہا ہے ، سوال یہ ہے کہ ایک مجرم جس کے خلاف عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہو ، وہ پولیس کے سامنے کیسے گھوم رہا ہے ۔ ایسے مجرموں کو جیل کیوں نہیں بھیجتی اترپردیش کی پولیس "، یہ کہنا ہے سماجوادی پارٹی کی سابق ترجمان پنکھڑی پاٹھک کا ۔

نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے پنکھڑی پاٹھک نے کہا کہ "میں نے سوموار کو دہلی کے مایا پوری تھانہ میں اترولی حملہ کے سلسلہ میں ایک شکایت دی تھی ۔( زیرو ایف آئی آر کہیں بھی درج کرائی جاسکتی ہے۔)۔ ڈی جی پی، یو پی پولیس کو بھی شکایت بھیجی تھی ، ڈر کی وجہ سے میں نے یوپی کے تھانے میں شکایت درج نہیں کرائی تھی ، لیکن میری شکایت پر نہ تو دہلی پولیس کوئی کارروائی کررہی ہے اور نہ ہی ڈی جی پی نے کوئی نوٹس لیا ہے"۔

علی گڑھ انکاونٹر : 

اس طرح سے پیش آیا تھا اترولی میں مار پیٹ کا واقعہ ۔ فائل فوٹو ۔

پنکھڑی پاٹھک کا مزید کہنا ہے کہ "واقعہ والے دن میں نے اترولی سے ہی ڈائل 100 پر بھی پوری اطلاع دی تھی ، قانونی اعتبار سے اس شکایت کی بنیاد پر بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہئے ، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ، میں اپنی شکایت لے کر اب کورٹ جارہی ہوں "۔

پنکھڑی نے مایا پوری تھانہ میں جو شکایت درج کرائی ہے ، اس کے مطابق گزشتہ ہفتہ کو وہ علی گڑھ انکاونٹر میں مارے گئے دو نوجوانوں کے اہل خانہ سے ملنے کیلئے گئی تھی ، اسی دوران بھیڑ نے انہیں گھیر لیا ۔ گالی گلوج کرتے ہوئے بھیڑ نے پتھراو شروع کردیا ، انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی ، آبروریزی کی دھمکی دکی ، گاڑیاں توڑ دی گئیں ، ساتھ گئے کچھ لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

ادھر اس سلسلہ میں سرکل افسر ( سی او ) پرشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ "پنکھڑی پاٹھک نے ہمیں کوئی شکایت نہیں دی ہے ، صرف ڈائل 100 کی اطلاع کو ہی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ متاثرہ کا ہونا ضروری ہے ۔ واقعہ والے دن کوئی بھی مجرم ہمارے سامنے نہیں گھوم رہا تھا ۔ پاٹھک بتائے بغیر وہاں پہنچی تھیں ، اس لئے یہ واقعہ پیش آگیا" ۔

بجرنگ دل کے لیڈر راج کمار آریہ کا کہنا ہے کہ "ہم سماج اور اس کے تحفظ کیلئے کام کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے پولیس سے ہمارا 36 کا آنکڑا رہتا ہے، اس لئے یہ الزام غلط ہے کہ علی گڑھ انکاونٹر والے معاملہ میں ہم پولیس کے اشارے پر کام کررہے ہیں ۔ ہم ہر اس تنظیم یا پارٹی کی مخالفت کریں گے جو یہاں سیاسی ہمدردی ظاہر کرنے کیلئے آئے گی"۔

ناصر حسین کی رپورٹ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز