نواز شریف کو نا اہل قرار دینےکے فیصلے سے بینچ کے تمام جج صاحبان متفق تھے : جسٹس کھوسہ

Sep 13, 2017 10:17 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:17 PM IST

اسلام آباد: پناما پیپرز کیس کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دینےکے 28 جولائی کے فیصلے سے بینچ کے تمام جج صاحبان متفق تھے۔ دی نیشن نے آج یہ خبر دی ہے ۔ رپور ٹ کے مطابق کہ جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں پنامہ فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست کی سماعت کرنے والے فاضل بنچ نے کہا کہ 28 جولائی کو دو ججوں نے فیصلے میں کوئی اضافہ نہیں کیا صرف دستخط کئے تھے۔ عدالتی فیصلے پر ہر جج دستخط کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

جسٹس کھوسہ کے مطابق تینوں میں سے کسی جج نے یہ نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کر رہے ہیں۔ ’نااہلی اور ریفرنس نیب کو بھیجنے کے معاملے پر ہمارا نتیجہ ایک ہی تھا‘۔ عدالت میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حادث نے دلائل دئیے ہیں کہ تین درخواستیں پانچ رکنی بینچ اور تین درخواستیں تین رکنی بینچ کےخلاف ہیں۔خواجہ حارث احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ 20 اپریل کے عبوری فیصلے میں جن جج صاحبان نے اختلافی نوٹ لکھے تھے، وہ 28 جولائی کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر دستخط نہیں کر سکتے تھے۔ نواز شریف کو وجہ بتاونوٹس دے کر وضاحت کا موقع ملنا چاہیے تھا۔انہیں فیئرٹرائل کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

نواز شریف کو نا اہل قرار دینےکے فیصلے سے بینچ کے تمام جج صاحبان متفق تھے : جسٹس کھوسہ

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ۔ فائل فوٹو

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد ‘ جسٹس اعجاز افضل ‘جسٹس عظمت سعید ‘جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے آج کو پنامہ فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے واضح کیا کہ جن جج صاحبان نے 20 اپریل کو نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا انہوں نے 28 جولائی کے فیصلے میں کسی بھی طرح کا اضافہ نہیں کیا، تاہم ان جج صاحبان نے حتمی فیصلے پر دستخط کیے اور اس طرح کی مثالیں ملک کی عدالتی تاریخ میں ملتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز