امریکہ میں سات مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی، تارکین وطن کے داخلے پر پابندی کے حکم نامہ پر دستخط

Jan 28, 2017 11:02 AM IST | Updated on: Jan 28, 2017 11:02 AM IST

واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں' انتہا پسند مسلم دہشت گردوں' کے داخلے کو روکنے کے لیے جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیا، جس کے تحت امریکہ میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو معطل کرتے ہوئے فوری طورپر 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخل ہونے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن شہری حقوق کی تنظیموں کے گروپ نے اس حکم نامہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے امتیازی اور نقصاندہ قرار دیا ۔ پنٹاگون میں وزیر دفاع جمیز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے۔ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکہ میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو چار مہینے کے لیے معطل کردیا گیا۔ دوسری جانب 7 مسلم ممالک ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو 90 دنوں تک امریکہ کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

پینٹاگون میں وزیر دفاع جمیز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو حکمنامے پر دستخط کیے جس کے تحت 'انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں' کو ملک سے دور رکھنے کے لیے جانچ پڑتال کے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکہ میں سات مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی، تارکین وطن کے داخلے پر پابندی کے حکم نامہ پر دستخط

گیٹی امیجیز

اطلاعات کے مطابق  ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پناہ کے متلاشی شامی شہریوں میں عیسائیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ انھوں نے چھ مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے کو روکنے کا عزم ظاہر کیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شامی پناہ گزینوں میں سے ایک مخصوص مذہب کے افراد کو نشان زد کرکے انہيں پناہ دینے کا بندوبست کرنا امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس حکم نامہ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ پنٹاگون میں منعقدہ تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ'میں سخت جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کر رہا ہوں تاکہ انتہا پسند مسلم دہشت گردوں کو امریکہ سے دور رکھا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو اپنے ملک میں داخل ہونے دیں جو ہمارے ملک کی حمایت کریں اور دل سے ہمارے لوگوں سے پیار کریں"۔

صدر ٹرمپ نے فوج کی تنظیمِ نو کے لیے ایک دیگر ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت نئے جہاز اور بحری جہاز تیار کرنے کے منصوبے تیار کیے جائیں گے اور اس کے علاوہ فوج کو نئے وسائل، آلات فراہم کیے جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز