مسئلہ فلسطین : دو ریاستی حل سے پیچھا ہٹا امریکہ ، تنظیم آزادی فلسطین نے بتایا غیر ذمہ دارانہ پالیسی

Feb 15, 2017 11:46 PM IST | Updated on: Feb 15, 2017 11:46 PM IST

واشنگٹن : امریکی انتظامیہ کےا یک اعلی ذمے دار نے منگل کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب دو ریاستی حل کو بنیاد شمار کرنے کا مزید پابند نہیں رہا۔اسرائیلی وزیراعظم کے وہائٹ ہاؤس کے حالیہ دورے کے بعد سامنے آنے والا یہ موقف اس معاملے میں امریکا کی تاریخی ثابت قدمی سے متصادم ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے مذکورہ سینئر اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی انتظامیہ آج کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے حل کے واسطے کسی بھی معاہدے کی شرائط ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش نہیں کرے گی.. بلکہ فریقین کے درمیان طے پائے جانے والے کسی بھی معاہدے کی حمایت کرے گی۔اہل کار نے مزید کہا کہ دو ریاستوں کی بنیاد پر ایسا حل جس سے امن نہ آ سکے اس کو کوئی بھی نہیں چاہتا ۔ انہوں نے کہا کہ مقصد امن ہے خواہ یہ دو ریاستی حل سے حاصل ہو یا کسی دوسرے حل کے راستے.. بنیادی بات یہ ہے کہ یہ فریقین کی چاہت سے ہو۔

مسئلہ فلسطین : دو ریاستی حل سے پیچھا ہٹا امریکہ ، تنظیم آزادی فلسطین نے بتایا غیر ذمہ دارانہ پالیسی

اے پی

ادھرتنظیم آزادی فلسطین کی اعلیٰ عہدیدار حنان عشراوی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دو ریاستی حل کی حمایت ختم کیے جانے سے مشرق وسطیٰ امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اس پیشرفت کو غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی سینیئر رہنما حنان عشراوی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل سے پیچھے ہٹنے سے خطے میں قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔حنان عشراوی نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ کوئی ذمہ دارانہ پالیسی نہیں ہے اور اس طرح قیام امن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اور فلسطینی تنازعے کے حل کی خاطر کسی متبادل راستے کو پیش کیے بغیر دو ریاستی حل سے پیچھے ہٹ جانا مناسب نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز