امریکہ میں حجاب پہننے پر مسلمان لڑکی کو اسکول بس سے اتارا، اہل خانہ کا معافی کا مطالبہ

Jan 16, 2017 11:51 AM IST | Updated on: Jan 16, 2017 11:52 AM IST

لاس اینجلس۔ امریکہ میں 15 سال کی ایک مسلمان لڑکی نے دعوی کیا ہے کہ اسے اس کے حجاب کی وجہ سے ایک ڈرائیور کے ذریعہ ایک اسکول بس سے دو بار اتارا گیا۔ لڑکی کے خاندان نے اسکول والوں سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

خاندان کے وکیل رانڈال اسپینسر نے کہا کہ اتاه کے پرووو سٹی میں ٹمپويو ہائی اسکول میں پڑھنے والی لڑکی جاننا باقر سے بس ڈرائیور نے بس کے انٹركام سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بس سے اتر جاؤ، تم یہاں کی نہیں ہو۔ باقر کے حوالے سے اے بی سی نیوز سے منسلک 'ڈبلے بی این ڈی  ایل ڈی' نے کہا کہ یہ (حجاب) اس کا حصہ ہے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آتی ہوں اور یہ میرے مذہب کا حصہ ہے۔ ہر دن میں اپنے کپڑے کے ساتھ اپنے حجاب کا ملاپ کرتی ہوں۔

امریکہ میں حجاب پہننے پر مسلمان لڑکی کو اسکول بس سے اتارا، اہل خانہ کا معافی کا مطالبہ

گیٹی امیجیز

انہوں نے گزشتہ ماہ ہوئے اس واقعہ کے بارے میں کہا کہ ڈرائیور نے کہا، 'ارے، تم نیلی چیز (اسکارف) والی، تم اس بس پر نہیں چڑھو اور میں نے کبھی تمہیں سوار ہوتے نہیں دیکھا اس لئے اتر جاؤ۔ باقر نے کہا کہ یہ سن کر اسے شرمندگی ہوئی اور وہ بس سے اتر کر رونے لگی۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوئی کہ کس طرح ہر کوئی انہیں گھور رہا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز