میانمار میں فوج کی کارروائی سنگین سفاکی، بحران کے حل کیلئے اقوام متحدہ فوری ٹھوس اقدام کرے : امریکہ

ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر میانمار میں روہنگیا آبادی کے خلاف پرتشدد کارروائی ختم کرانے کے لئے فوری ٹھوس اقدام کرنے کے لئے زور دیا ہے۔

Sep 21, 2017 07:29 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 07:29 PM IST

اقوام متحدہ/ کوکس بازار: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر میانمار میں روہنگیا آبادی کے خلاف پرتشدد کارروائی ختم کرانے کے لئے فوری ٹھوس اقدام کرنے کے لئے زور دیا ہے۔ امریکی نائب صدر نے بدھ کے روز روہنگیا بحران کو دنیا کے لئے خطر ہ قرار دیتے ہوئے یہ اطلاع دی ہے۔ امریکی نائب صدر مسٹر مائیک پینس نے میانمار میں پُر تشدد حملوں کے نتیجے میں روہنگیا آبادی کے در بدر ہوکر بنگلہ دیش میں پناہ لینے کے معاملےکی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’تاریخی بے دخلی‘‘ کا معاملہ ہے۔

بدھ کے روز اقوام متحدہ کی قیام امن پر مامور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں پینس نے کہا کہ دنیا جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار میں ’’ایک بڑا سانحہ رونما‘‘ ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ پینس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ دِنوں، برما کی سلامتی دستہ نے روہنگیا باغیوں کی طرف سے پولس چوکیوں پر ہونے والے حملوں کا جواب شدید بربریت سے دیا ہے اور فوج کی سفاکانہ کارروائی دیہات جلا دیے گئے، روہنگیا آبادی کو گھروں سے باہر نکال دیا گیا ہے"۔ اُنھوں نےکہا کہ ’’ پر تشدد کارروائی اور ہلاکتوں کی تصاویر دیکھ کر امریکی عوام اور دنیا بھر کے مہذب لوگوں کو صدمہ پہنچا ہے"۔

میانمار میں فوج کی کارروائی سنگین سفاکی، بحران کے حل کیلئے اقوام متحدہ فوری ٹھوس اقدام کرے : امریکہ

بنگلہ دیش میں پناہ گزیں روہنگیا مسلمان ۔ فائل فوٹو

مسٹر پینس نے کہا کہ "جب تک یہ پرتشدد کارروائی بند نہيں ہوگی، جو کہ انصاف کا تقاضا بھی ہے، یہ بحران مزید سنگین ہوتا جائے گا، اور اس سے نفرت ، تشدد اور افراتفری کی وہ بیج پڑے گی کہ جو خطے کو آنے والی کئی نسلوں تک اپنے زد میں لے لے گی اور ہم سب کے امن و سکون کے لئے خطرہ بن جائے گی"۔ مسٹر پینس کا یہ بیان امریکی حکومت کی طرف سے میانمار کے راخین میں پرتشدد کارروائی پر اب تک کا سخت ترین رد عمل ہے، جہاں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 400000 سے زائد روہنگیا افراد میانمار چھوڑ چکے ہیں، جہاں اُنھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روہنگیا آبادی کے خلاف میانمار کی کارروائی کو اقوام متحدہ نے نسل کشی قرار دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ روہنگیا باغیوں نے اگست کے آخر میں برما کی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔ تب سے، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ برما کی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے، روہنگیا کے سارے دیہات کو نذر آتش کیا، جس میں خواتین اور بچے سیکڑوں کی تعداد میں مارے گئے۔ پینس نے کہا کہ امریکہ نے برما کی سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی پُرتشدد کارروائی بند کردیں اور طویل مدتی حل کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی حمایت کریں۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی اپیل کے باوجود عالمی ادارہ کی طرف سے میانمار میں سخت کارروائی کے امکانات کم ہی ہیں، کیونکہ سخت کارروائی کی کسی بھی قرار داد کو چین اور روس کی طرف سے ویٹو کیا جاسکتا ہے، تاہم، اگر صورتحال بہتر نہيں ہوئي تو سلامتی کونسل اس سلسلے میں رسمی بیان پر غور کرسکتی ہے۔ میانمار نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ویٹو پاور یافتہ چین اور روس کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔ 25 اگست سے روہنگیا بحران شروع ہونے کے بعد سے 15 رکنی سلامتی کونسل نے دو بار بند کمرے میں میٹنگ کی ہے، گزشتہ ہفتہ ایک غیر رسمی بیان جاری کیا ہے ، جس میں پرتشدد کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے میانمار حکام سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز