اونٹ پہاڑ کے نیچے : شمال کوریا سے غیر مشروط مذاکرات کی امریکہ کی پیشکش

Dec 13, 2017 05:23 PM IST | Updated on: Dec 13, 2017 05:23 PM IST

واشنگٹن : امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بغیر کسی قبل از وقت شرائط کے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔ مسٹر ٹلرسن نے کل یہاں ایک تقریر میں شمالی کوریا کو پیش کش کرتے ہوئے کہا، "چلو ملتے ہیں." ان کی اس پیشکش کے بعد امریکہ کو اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے. امریکہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ جوہری ترک اسلحہ کی صورت میں ہی شمالی کوریا سے بات چیت ممکن ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے کئے جا رہے اعلی قسم کے جوہری ٹسٹ اور میزائل کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تیکھے الزام و جواب الزام بھی لگائے جارہے ہیں. گذشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے انٹر کانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل کے ٹسٹ کو اپنی "بڑی کامیابی" قرار دیتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ امریکہ بھی اب اس کی زد میں آ گیا ہے توامریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات اور بھی خراب ہو گئے تھے۔

اونٹ پہاڑ کے نیچے : شمال کوریا سے غیر مشروط مذاکرات کی امریکہ کی پیشکش

مسٹر ٹلرسن نے جوہری ہتھیار سے لیس شمالی کوریا کو برداشت نہیں کرنے کی امریکہ واشنگٹن کی طویل المدتی پوزیشن کو دہراتے ہوئے مسٹر ٹلرسن نے کہا،"اگر جنوبی کوريا تیار ہوتا ہے تو امریکہ کسی بھی وقت مذاکرات کے لئے تیار ہے. لیکن اس سے پہلے شمالی کوریا کو اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ اپنے رویے میں تبدیلی کرنا ہوگی‘‘۔ اگرچہ یہ اب بھی صاف نہیں ہے کہ انتظامیہ کے اندر تک رسائی رکھنے والے مسٹر ٹلرسن کی اس سفارتی کوشش کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے یا نہیں. مسٹر ٹلرسن نے پہلے بھی شمالی کوريا کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان سے کہا تھاکہ وہ اپنا وقت ضائع کریں گے۔

شمالی کوریا نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے جب تک کہ امریکی زمین تک مار کرنے والا جوہری میزائل تیار نہیں کر لیتا. اگرچہ بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ابھی تک اسے حاصل نہیں کر پایا ہے۔ مسٹر ٹلرسن نے اٹلانٹک کونسل میں کہا-’’ہم بغیر کسی پیشگی شرط کے پہلی بات چیت کو تیار ہیں۔ مسٹر ٹلرسن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو سختی سے لاگو کرنے کے لئے کام کر رہا ہے، خاص طور پر چین کی طرف سے لاگو کئے جا سکنے والے اقدامات میں بھی تعاون کر رہا ہے. اگر ضرورت ہوئی تو ا مریکہ کے فوجی آپشنز بھی کھلے ہوئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے چین کے ساتھ بات چیت کی ہے کہ کس طرح شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کو بحران میں محفوظ کیا جا سکتا ہے اور بیجنگ کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج كسي طرح شمالی کوریا میں داخل ہو جاتی ہیں تو وہ جنوبی کوریا لوٹ آئیں گے۔ مسٹر ٹلرسن نے اگرچہ واضح کیا کہ امریکہ پرامن سفارتکاری کے ذریعے شمالی کوریا مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز