امریکہ اور جنوبی كوريا کی مشترکہ ہوائی مشق شروع

Dec 04, 2017 03:50 PM IST | Updated on: Dec 04, 2017 03:50 PM IST

سیول۔ جنوبی کوریا اور امریکہ نے اب تک کا سب سے بڑا سالانہ مشترکہ ہوائی فوجی مشق کی آج شروعات کی۔ شمالی کوریا نے ایک ہفتے پہلے کہا تھا کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کے تحت سب سے زیادہ جدید قسم کے میزائل کا تجربہ کیا ہے، جس کے بعد جنوبی کوریا اور امریکہ نے مل کر یہ قدم اٹھایا۔ امریکی اور جنوبی کوریا کی فوجی مشق کو’ وجیلنٹ اے سی‘ کا نام دیا گیا، جو جمعہ تک چلے گا۔ اس مشق کے تحت تعینات کئے گئے230 جنگی طیاروں میں چھ ایف -22 ریپٹر لڑاکا طیارہ بھی شامل ہیں.

جنوبی کوریا میں امریکی فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ مشق میں ایف -35 لڑاکا طیاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے. اس کے ساتھ ہی امریکی فضائیہ اور بحریہ کے تقریباً 12 ہزار فوجی مشترکہ مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق مشق میں بی -1 بی لانسر بمبار طیاروں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم امریکی فضائیہ کے ترجمان نے ان رپورٹوں كاے مسترد کیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی كوريا کی مشترکہ ہوائی مشق شروع

غور طلب ہے کہ شمالی کوریا نے اس مشق کو لے کر وارننگ جاری کی تھی اور اسے فوری طور پر روکنے کے لیے بھی کہا تھا. اس دوران شمالی کوریا کی طرف سے سب سے زیادہ جدید میزائل کے تجربہ کے بعد دوبارہ دنیا بھرمیں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ مشق کا انعقاد شمالی کوریا کی طرف سے کئے گئے سب سے زیادہ جدید قسم کے میزائل کے تجربہ کے ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا نے تمام بین الاقوامی پابندیوں اور مذمت کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر کےاس تجربہ کو انجام دیا تھا۔ شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر کشیدگی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مشترکہ فوجی مشقیں کورہائی جزائر میں پھیلی آگ کو اور بھڑكائے گی۔

ملک کے پرامن اتحاد پر شمالی کوریا کی کمیٹی نے کل مسٹر ٹرمپ کو ’پاگل‘قرار دیتے ہوئے کہا، " مشترکہ مشق پہلے سے بحران جھیل رہے کوریائی جزائر کو جوہری جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔"شمالی کوریا عام طور سے اپنی سرکاری میڈیا کا استعمال امریکہ اور اس کے ساتھیوں کو انتباہ جاری کرنے میں کرتا رہتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز