شام کیمیائی ہتھیاروں سے ایک اور حملہ کرنا چاہتا ہے: امریکہ کا انتباہ

Jun 27, 2017 04:00 PM IST | Updated on: Jun 27, 2017 04:00 PM IST

واشنگٹن۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں سے ایک اور حملہ کی تیاری کررہی ہے اور اس نے شامی صدر بشار الاسد کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایسا کیا تو انہیں اور ان کی فوج کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کل جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کی تیاریاں ایسی  ہیں جیسی کہ 4اپریل کے کیمیائی حملے سےپہلے کی گئی تھیں۔ اس حملہ میں درجنوں عام شہری مارےگئے تھے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کے جواب میں شامی فضائی اڈے پر کروز میزائل داغنے کا حکم دے دیا تھا۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ اسد حکومت نے باغیوں کے قبضہ والے علاقے میں زہریلی گیس سے حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شام اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس نے حملہ کیا تھا۔ اس حملہ سے روس کے ساتھ امریکہ کا ٹکراؤ ہوگیا تھا کیونکہ روسی شہر شام میں موجود ہیں جو اس کے قریبی اتحادی اسد کی مدد کررہے ہیں۔ امریکی افسران نے اس وقت کہا تھا کہ یہ واحد حملہ ہے تاکہ اسے مستقبل میں کیمیائی حملوں سے روکا جاسکے ۔ یہ شام کی جنگ میں امریکی رول کی توسیع نہیں ہے۔

شام کیمیائی ہتھیاروں سے ایک اور حملہ کرنا چاہتا ہے: امریکہ کا انتباہ

شامی صدر بشار الاسد: فائل فوٹو، رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز