خوف دور کرنے کے لئے امریکی مسلم اسکول اپنے پڑوسیوں سے رابطہ کررہے ہیں

May 13, 2017 02:51 PM IST | Updated on: May 13, 2017 02:51 PM IST

ہنٹنگٹن (نیویارک) ۔  نیویارک کے نواح میں واقع ایک رومن کیتھولک ہائی اسکول میں دورے پر آئے دو درجن مسلم طلبا نے نماز پڑھی جبکہ یونیفارم میں ملبوس میزبان اسکول کے طلبا انہیں غور سے دیکھتے رہے۔ اس دورے کا مقصد بہت سادہ تھا کہ یہ اسکول جو محض 16 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں مگر ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے زمین آسمان کی دوری پر ہیں، ایک دوسرے کو جان سکیں۔ یہ ایک اچھی پہل کا حصہ ہیں جسے موسم خزاں میں امریکہ کے 80 اسلامی اسکول شروع کریں گے تاکہ ایسے وقت جب بہت سے لوگ صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے پریشان ہیں، امریکیوں کے دل میں مسلمانوں کی بہتر تصویر پیش کرنا ہے۔ ایم ڈی کیو اکاڈمی اسلامی اسکول کی 19 سالہ طالبہ لائبہ امجد نے سینٹ اینٹونی ہائی اسکول کے دورے کے دوران کہا ’’آج کے معاشرے میں کئی بار مسلمان یہ سوچ کر خوفزدہ رہتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں غلط تصور رکھتے ہیں‘‘۔ دوسری طرف غیر مسلم لوگ بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔ ’’وہ ایک مسلمان کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کہیں یہ شخص کوئی انتہاپسند تو نہیں‘‘۔

پی ای ڈبلیو ریسرچ سینٹر کے فروری میں کئے گئے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی امریکی ذاتی طور سے کسی مسلمان کو نہیں جانتا تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ وہ سب مسلمانوں کو انتہا پسند سمجھتا ہے۔واضح رہے کہ مسلمان امریکی آبادی کا ایک فیصد حصہ ہیں۔ اسی سروے میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ 60 فیصد امریکی، جو کسی مسلمان کو جانتے ہیں، ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہ لوگ انتہاپسندوں کی حمایت نہیں کرتے مگر جو مسلمانوں کو نہیں جانتے ان میں سے 48 فیصد ایسا سمجھتے ہیں۔ سینٹ اینٹونی کے سینئر طلبا نے دورے پر آئے ہوئے مسلم طلبہ  کے ساتھ لنچ کھایا۔ اس کے بعد 17 سالہ کرس بیرن نے کہا کہ آج سے پہلے میرا کبھی مسلمانوں سے رابطہ نہیں ہوا تھا۔ مسلمانوں کو آج کے دور میں انتہا پسند سمجھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلہ کا حل یہی ہےکہ اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ تصور بدلنے کی کوشش کے تحت شمالی امریکہ میں اسلامی اسکولوں کی کونسل نصاب میں تبدیلی کررہی ہے۔ وہ 24 امریکی ریاستوں میں قائم اپنے ممبر 78 اسکولوں کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کریں۔ کونسل کی ڈائرکٹر صوفیہ عظمت نے کہا اس ملک کے لوگ مسلمانوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں وہ جانتا چاہتے ہیں کہ اسلامی اسکولوں کے اندر کیا ہوتا ہے۔

خوف دور کرنے کے لئے امریکی مسلم اسکول اپنے پڑوسیوں سے رابطہ کررہے ہیں

تصویر: رائٹرز

کونسل اپنے استادوں سے مسلم فرقہ کے اندر مزید رضاکارانہ پروجیکٹ شروع کرنے، مقامی سرکار کی میٹنگ میں شرکت کرنے اور طلبا کا ایک ڈاٹا بیس تشکیل دینے کی درخواست کرے گی۔ یہ سب ایسے عہد میں کیا جارہا ہے جب مسلمان بہت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں اسلام کے نام پر ہونے والے انتہاپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی سخت جانچ کی جاتی ہے۔ پچھلے سال جون میں امریکہ میں پیدا ہوئے ایک مسلم شخص نے کئی اسلامی جنگجو گروپ کی وفاداری ظاہر کرتے ہوئے فلوریڈا کے ایک نائٹ کلب میں 49 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ جدید امریکی تاریخ کا اجتماعی فائرنگ کا سب سے جان لیوا واقعہ تھا۔ مسلم مذہبی لیڈروں نے اس تشدد کی یہ کہہ کر مذمت کی ہے کہ ان کا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس سے روکتا ہے۔ ایف بی آئی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں یہودیوں کے بعد مسلمانوں کو سب سے زیادہ نفرت انگیز جرائم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ امریکہ ۔ اسلامی تعلقات کونسل کی طرف سے اس ماہ جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم پچھلے سال یعنی 2015 کے مقابلے 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 8 نومبر کو امریکی انتخابات کے بعد کے دس روز میں مسلمانوں کے خلاف زبانی اور جسمانی حملوں میں پچھلے سال کے اس عرصہ کے مقابلے 6 فیصد اضافہ ہوا ۔ امریکہ اسلامی اسکولوں کا نیا نصاب ابھی تیار کیا جارہا ہے مگر اس کا مقصد واضح ہے کہ باہر والوں کے لئے ہم اپنے دروازے کھولیں۔

ورجنیا یونیورسٹی کے ثقافتی مطالعات کے ادارے نے ایک تہائی مسلم ہائی اسکولوں کے جائزےمیں پایا ہے کہ جہاں تک بچوں کی دلچسپیوں اور امریکی ہونے کے جذبہ کا تعلق ہے طلبا اپنے غیر مسلم ساتھیوں سے الگ نہیں ہیں۔ وہ بھی اسی طرح سوچتے ہیں، وہ عام بچوں کی طرح ہیں مگر وہ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور امریکی معاشرے کی کچھ چیزوں پر انہیں اعتراض ہے جیسے کہ بہت سے ایوانجیلیکل عیسائی اور یہودی بچے بھی سوچتے ہیں۔

ملک کے بہت سے اسلامی اسکول الگ تھلگ رہ کر خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ انہیں ہراساں کئے جانے کا ڈر رہتا ہے۔ ایک دوسرے فرقے سے تعلق بڑھانے کی کوشش صرف مسلمانوں کے لئے ہی دشوار نہیں ہے ان امریکی پبلک اسکولوں کو بھی اس سے گزرنا پڑتا ہے جو سماجیات کی کلاس میں مسلمانوں کے بارے میں پڑھاتے ہیں۔ سان ڈیاگو اور نیو جرسی  میں حال ہی میں بعض والدین نے مسلمانوں کے بارے میں سبق پر اعتراض کیا ہے۔

سان ڈیاگو کے ’مسلم خوف‘ مخالف پروگرام کی مخالفت کرنے والے گروپ کی ایلس کیسر نے کہا آپ ایسے لوگوں سے اتحاد کررہے ہیں جو آپ کے اپنے آئین کے مخالف ہیں۔ ورجینا کے ایک اسلامی اسکول میتھ اکادمی کو فرقوں کے درمیان رابطہ کے لئے ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کے دن اس اسکول کے آٹھویں کلاس کے ایک گروپ نے مسلم مخالف بیانات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹروں سے پوچھا کہ انہیں سب سے زیادہ کن سیاسی امور کی فکر ہے، سب سے زیادہ طویل بات چیت ٹرمپ کے حامیوں سے ہوئی جن میں سے کئی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی مسلمان سے بات نہیں کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز