شام نے جیلوں میں ہزاروں لوگوں کو ایذائیں دی ہیں اور موت کے گھاٹ اتارا ہے: ایمنسٹی

جنیوا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے دمشق کے نزدیک ایک فوجی جیل میں 13 ہزار قیدیوں کو پھانسی دی ہے اور منظم طریقہ سے ایذائیں دی ہیں ۔

Feb 08, 2017 06:01 PM IST | Updated on: Feb 08, 2017 06:02 PM IST

جنیوا۔  انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے دمشق کے نزدیک ایک فوجی جیل میں 13 ہزار قیدیوں کو پھانسی دی ہے اور منظم طریقہ سے ایذائیں دی ہیں ۔ شام کی وزارت انصاف نے ایمنسٹی کی رپورٹ کو غلط بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو 2011 سے 2015 کے درمیان موت کے گھاٹ اتارا گیا اور یہ سلسلہ غالباً اب بھی جاری ہے اور یہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے ذرائع سے اس کی مزید تفتیش کرائے جانے کی اپیل کی ہے جس نے پچھلے سال اسی طرح کی ایک رپورٹ پیش کی تھی اس میں بھی متعدد عینی شاہدین کی گواہیوں کی بنیاد پر الزام لگائے گئے تھے۔ شامی حکومت اور صدر بشار الاسد وہاں جاری جنگ کے دوران ایذائیں دئے جانے اور بغیر مقدمہ کے لوگوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کی اسی طرح کی رپوٹوں کی ماضی میں بھی مسترد کرتے رہے ہیں۔ اس خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں جانیں جاچکی ہیں ۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دمشق کے شمال میں واقع سدنایہ فوجی قید خانہ میں اوسطاً ہر ہفتہ 20 سے 25 افراد کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے۔ عوامی بغاوت کے خانہ جنگی میں تبدیل ہونے کے بعد چار سالوں میں یہاں پانچ سے تیرہ ہزار کے درمیان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ ’’مارے جانے والے لوگ بیشتر عام شہری تھے جو حکومت کی مخالفت کررہے تھے‘‘۔ اس فوجی قیدخانہ کے متعدد کئی دیگر قیدیوں کو بار بار ایذائیں دے کر اور منظم طریقہ سے کھانے پینے دوا علاج سے محروم کرکے موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ جن لوگوٓں پر غداری کا شبہ تھا یا جو بغاوت میں شامل تھے ان پر فوجی عدالتوں میں جھوٹے مقدمے چلائے گئے۔ انہیں کئی مرتبہ ٹارچر کرکے جرم قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا ۔ ان لوگوں میں سابق فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی ’سنا‘ نے وزارت انصاف کے حوالے سے کہا ہے کہ ایمنسٹی کے الزامات حقیقی ثبوتوں پر مبنی نہیں ہیں بلکہ’’ انفرادی جذبات پر مبنی ہیں جن کا مقصد جانے پہچانے سیاسی مقاصد حاصل کرتا ہے‘‘۔

شام نے جیلوں میں ہزاروں لوگوں کو ایذائیں دی ہیں اور موت کے گھاٹ اتارا ہے: ایمنسٹی

وزارت نے اس کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے برسرپیکار باغی گروپو ں پر بھی الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور اغوا کررہے ہیں۔ وزارت نے اس رپورٹ کو بین الاقوامی تناظر میں اسرائیل کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش بتائی ہے ۔خصوصاً ایسے وقت میں شامی فوج کو فتوحات حاصل ہورہی ہیں۔ فوج اور اتحادی فورسز نے دسمبر میں باغی تنظیموں کو حلب سے نکال باہر کردیا تھا ۔ چھ سال سے جاری اس جنگ میں یہ اسد کی سب سے اہم کامیابی رہی ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو خفیہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا گیا اور مرنے کے بعد انہیں راجدھانی کے باہر اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا اور ان کے کنبوں کو کوئی خبر نہیں دی گئی کہ ان کا کیا ہوا ہے۔ یہ رپورٹ 84 گواہوں کے انٹرویو پر مبنی ہے جن میں سابق محافظ، افسران ، قیدی ، جج، وکیل اور ماہرین شامل ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن نے ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ جس میں جنگی جرائم کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ سدنایہ فوجی قیدخانہ میں بڑی تعداد میں اموات درج کی ہیں۔ عالمی ادارے کے پینل کے چیئرمین پاولوپنیرو نے رائٹر کو بتایا کہ ایجنسی کی رپورٹ ہمارے ’’حراستی اموات ‘‘ پیپر سے بالکل میل کھاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز