شام کے رقعہ میں آئی ایس اور فوج کے درمیان شہری سنگین بحران کا شکار

Aug 24, 2017 12:23 PM IST | Updated on: Aug 24, 2017 12:23 PM IST

بیروت۔  بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شام کے رقعہ میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کو شکست دینے کے لئے امریکی قیادت والی اتحادی افواج کی جانب سے جاری مہم میں ہزاروں شہری مارے گئے ہیں اور یہاں بچے باقی لوگ سنگین بحران کا شکار ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج کہا کہ روسی حامی شامی حکومت نے جنگ کے آخری دور میں آئی ایس کے ٹھکانوں کو اندھا دھند طریقے سے نشانہ بنایا ہے اور اس کی زد میں آکر ہزاروں شہری بھی اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ کلسٹر اور بیرل بموں کو آئی ایس کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور شہری رقعہ شہر کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حامی شام ڈیموکریٹک فورس جس میں عرب اور کرد جنگجو ہیں، انہیں شہر کے وسطی اضلاع میں احتیاط برتنی چاہئے اور ہرفریق سے امید کی جاتی ہے کہ شہریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مہم چلائیں گے اور جہاں جتنا جلد ممکن ہو، شہری علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کے استعمال کو کم سے کم کیا جانا چاہئے۔

شام کے رقعہ میں آئی ایس اور فوج کے درمیان شہری سنگین بحران کا شکار

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور شہری رقعہ شہر کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ : تصویر، رائٹرز۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ نے رقعہ شہر پر 2014 میں قبضہ کر لیا تھا اور وہ یہاں رہ رہے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اگر کوئی یہاں سے بھاگنا چاہتا ہے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔ یہاں سے بے گھر ہوئے سینکڑوں کنبوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا '' آئی ایس ہمیں باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا ہے، نہ ہمارے پاس کھانا ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز