برلن میں اردو ادیبوں کا سرسید کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کا عزم ، مشن کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت

Sep 28, 2017 01:35 PM IST | Updated on: Sep 28, 2017 01:39 PM IST

برلن: تعلیم اور سماجی اصلاحات سے متعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے خواب کو پورا کرنے کاعہد کرتے ہوئے اردو کے ادیبوں نے کہا کہ اس دور میں سرسید احمد کا لائحہ عمل اور ان کے مشن کو بڑھانا نہایت ضروری ہے۔ یہ بات یہاں سرسید احمد کے دو سو سالہ یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقرروں نے کہی۔ اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیلجئم سے آنے والے صحافی اور محقق جناب خالد حمید فاروقی نے اپنے مقالے میں بتایا کہ سر سید نے مسلمانوں کو اردو زبان کے ساتھ ایک شناخت دی اور انہیں جدید تعلیم حاصل کرنے کی جانب راغب کیا۔

ہندوستان کے شہر لکھنوء کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،لکھنؤ کیمپس کے شعبہ اردو کی استاذ محترمہ ڈاکٹر عشرت ناہید نے اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں سر سید احمد خان کو محسن علم و زبان قرار دیا ۔اپنے مقالے میں انہوں نے سر سید کو جنگ آزادی کا راہنما گردانتے ہوئے ان کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلوؤں کو اجاگر کیا جس میں سر سید احمد خان کی روحانی طبیعت کے پراسرار خوابوں کا تذکرہ تھا۔

برلن میں اردو ادیبوں کا سرسید کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کا عزم ، مشن کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت

برلن میں سرسید احمد کے دو سو سالہ یوم پیدائش کے موقع پرقریب کا انعقاد

واضح رہے کہ سر سید کے ان خوابوں کو حالی نے " سرسید کے چند خواب "کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرسید احمد خاں نے تعلیم اور سماجی اصلاحات کے سلسلے میں جو خواب دیکھا تھا اس پرنہ صرف عمل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کو نئی نسل تک کس طرح منتقل کیا جائے اس پر بھی غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے لئے سرسید احمدخاں بہترین ماڈل ہیں۔

فرینفکرٹ سے تشریف لانے والے افسانہ نگار اور عالمی افسانہ فورم کے ایڈمن وحید قمر نے سر سید کی اردو کے حوالے سے خدمات جو سراہتے ہوئے انہیں برصغیر میں اقلیتوں اور مسلمانوں کا نجات دہندہ قرار دیا اور ساتھ بتایا کہ سرسید نے اردو اور جدید تعلیم کے فروغ کو ہندوستاں کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کا ایک عنصر اور وقت و حالات کی ضرورت کے طور پر پیش کیا۔

اس موقع پر اردو انجمن برلن کی جانب سے چند اردو کتب کا اجراء عمل آیا۔جن میں عارف نقوی کا سفر نامہ " راہِ اْلفت میں گامزن "ڈاکٹر عشرت ناہید کا حیات اللہ انصاری کی شخصیت و فن پر مبنی تنقیدی و تحقیقی کتاب " حیات اللہ انصاری شخصیت اور ادبی کارنامے" ڈاکٹرریشمہ کی لکھنؤ کی معروف ادیبہ اور اسکالرڈاکٹر شمیم نکہت کی نجی و علمی زندگی پر مرتبہ کتاب بعنوان " ڈاکٹر شمیم نکہت۔ تاثر اور تنقید " شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس تقریب میں عشرت معین سیما کے شعری مجموعے " جنگل میں قندیل " کی رسم رونمائی بھی کی گئی۔

اس تقریب میں اردو انجمن کی جانب سے ڈاکٹر عشرت ناہید کو مومنٹوکے ساتھ ادب کی مجموعی خدمات کے لیے اردو انجمن برلن ایوارڈ سے نوازا گیا اس موقع پر خالد حمید فاروقی اور پاکبان انٹرنیشنل کے سربراہ ظہور احمد صاحب کو بھی صحافتی خدمات کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عالمی افسانہ فورم کے جناب وحید قمر اور پروگرام کی جرمن میزبان جاریہ کو سارہ ظہیر نے گلدستہ پیش کیا۔

پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مقامی اور یورپ سے آنے والے کئی شعرا نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سر سید احمد خان کے دوسو سالہ جشن ولادت پہ دوسرے دن شام افسانہ منعقد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی عالمی افسانہ فورم کے معروف ایڈمن جناب وحید قمر تھے۔ ان کے علاوہ عارف نقوی ، انور ظہیر ، ڈاکٹر عشرت ناہید ، سرور غزالی اور ڈاکٹر عشرت معین سیما نے اپنے فن افسانہ نگاری سے سامعین کے دل موہ لئے۔

جرمنی میں اردو ادب میں ہونے والی تحقیقات اور تعلیم کے سلسلے میں عشرت معین سیما نے ڈاکٹر عشرت ناہید کو برلن کی جامعات کا دورہ کروایا اور ایک خاص منعقد کردہ سیمینار میں مدعو کیا جس میں انہوں نے سرسید کے رسالہ تہذیب الاخلاق اور اردو صحافت و ادب میں سرسید کا مقام کا جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عشرت ناہید نے اس موقع پہ جرمن دانشوروں اور ادباء سے بھی ملاقات کی بعد ازاں ان کے لیے برلن اور پوٹسڈام شہرکے مطالعاتی دورے کا بھی اہتمام کیاگیا۔ اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیے ہندوستان پاکستان اور یورپ کے کئی اْردو ادبی مشاہیر اوردانشوروں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔جرمنی کے شہردارالحکومت برلن میں سرسید احمد خان کو خراج عقیدت پیشکرنے کے لئے اردو انجمن برلن کی جانب سے اْن کا دوسو سالہ جشنِ ولادت نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز