فرانس : انتہا پسندی کو ہوا دینے کا الزام لگاکرمارسیلیا کی السنہ مسجد کو بند کردیا گیا ، امام پر بھی سنگین الزامات

فرانس کی جنوبی ریاست مارسیلیا میں حکام نے ایک مسجد کو انتہا پسندی اور نفرت کو ہوا دینے کے الزام میں بند کردیا ہے۔

Dec 17, 2017 01:18 PM IST | Updated on: Dec 17, 2017 01:18 PM IST

مارسیلیا : فرانس کی جنوبی ریاست مارسیلیا میں حکام نے ایک مسجد کو انتہا پسندی اور نفرت کو ہوا دینے کے الزام میں بند کردیا ہے۔خبرر ساں اداروں کے مطابق مارسیلیا کی ایک انتظامی عدالت نے مسجد کے امام وخطیب پر نمازیوں کو انتہا پسندی کی تعلیم دینے کے الزام میں امامت اور خطابت سے روک دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارسیلیا شہر میں واقع جامع مسجد السنہ کو گورنر پییر دارٹوت کی درخواست پر چھ ماہ کے لیے بند کیا گیا ہے۔

عدالت کی طرف سے مسجد کےامام جس کی شناخت مخفی رکھی ہے پر الزام ہے کہ اس نے اپنی تقاریر میں انتہا پسندانہ، امتیاز پر مبنی اور تشدد کی تبلیغ شروع کر رکھی تھی۔فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسجد کی نگران تنظیم کے وکیل فیلپ پیرولیر کا کہنا ہے کہ جن تقاریر کی بناء پر مسجد کو بند کیا گیا ہے وہ نئی نہیں بلکہ سنہ 2013ء کی ہیں۔ وہ عدالت کے فیصلے پرحیران ہیں کہ ایک پرانے واقعے پر مسجد کو سیل کیا گیا ہے۔

فرانس : انتہا پسندی کو ہوا دینے کا الزام لگاکرمارسیلیا کی السنہ مسجد کو بند کردیا گیا ، امام پر بھی سنگین الزامات

خیال رہے کہ فرانس نے13 نومبر 2015ء کو دہشت گردی کےایک واقعے کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے فروغ میں ملوث 19 مساجد سیل کردی تھیں۔اگرچہ ملک میں اب ہنگامی حالت ختم کردی گئی ہے مگر حکومت نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کئی قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز