سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11 شہزادے ، چار وزرا اور کئی سابق وزرا گرفتار

Nov 05, 2017 10:58 AM IST | Updated on: Nov 05, 2017 01:40 PM IST

ریاض : سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11 شہزادے، چار وزراء اور کئی سابق وزراء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے براڈ کاسٹر العربیہ نے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے لیکن ان کے نام نہیں بتائے گئے ہیں۔نئی اینٹی کرپشن کمیٹی کے قیام کے چار گھنٹوں بعد ہی ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین پرنس محمد بن سلمان ہیں اور انہیں گرفتاری وارنٹ جاری کرنے یا سفر پر پابندی عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیاہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب میں انسداد کرپشن کمیٹی کا قیام ملک کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کردہ خصوصی فرمان کے تحت دیا گیا۔نئی احتساب کمیٹی نے جدہ سیلاب اور کورونا وائرس کیسز کی دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انسداد بدعنوانی کمیٹی کے حکم پر چار موجود اور دسیوں سابق وزراء اور شہزادوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11 شہزادے ، چار وزرا اور کئی سابق وزرا گرفتار

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر قیادت قائم کردہ انسداد بدعنوانی کمیٹی میں مانیٹرنگ وانویسٹی گیشن اتھارٹی کے چیئرمین، قومی انسداد کرپشن اتھارٹی کے چیئرمین اور جنرل آڈٹ بیورو کے چیئرمین، اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ سیکیورٹی کے سربراہ اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک میں کرپشن کا خاتمہ اور بدعنوانی میں ملوث حکومتی عمال، وزراء، شہزادوں اور سرکردہ شخصیات کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لانا ہے۔

انسداد کرپشن کمیٹی کو بدعنوانی میں ملوث اداروں اور شخصیات سے تفتیش کے وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی کسی اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کرنے، کرپشن میں ملوث عناصر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، منقولہ اور غیر منقولہ املاک کےغلط استعمال، منقولہ املاک بالخصوص غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی روکنے کا مجاز ہو گا اور لوٹی گئی دولت قومی خزانے میں جمع کرانے کے ساتھ کرپشن میں ملوث افراد، کمپنیوں اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز