شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکئے جانے کا عرب سربراہان نے کیا خیر مقدم ، ایران نے کی تنقید

Jun 21, 2017 09:54 PM IST | Updated on: Jun 21, 2017 09:54 PM IST

ریاض : سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے منصب سے ہٹاکر ان کی جگہ اپنے 31سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو اگلا حکمراں مقرر کیا ہے۔ شہزادہ سلمان کے پاس نئی ذمہ داری کے ساتھ وزیر دفاع کا عہدہ بھی برقرار رہے گا۔ نیز وہ نائب وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ سعودی عرب کی بیعت کمیٹی کے 34میں سے 31ارکان نے شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر کئے جانے کے فیصلہ کی توثیق کی ہے۔

شاہ سلمان کے اس فرمان کا عرب سربراہوں نے خیر مقدم کیا ہے جبکہ ایران نے اس کی شدید نکتہ چینی کی ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی خبر کے مطابق اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے شہزادہ محمد بن سلمان کو انہیں مملکت کا ولی عہد اور نائب وزیر اعظم بننے پر مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر پر شاہ عبداللہ نے نئے ولی عہد کے لیے نیک تمناؤں اور امیدوں کا اظہار کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکئے جانے کا عرب سربراہان نے کیا خیر مقدم ، ایران نے کی تنقید

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی شہزادہ محمد بن سلمان کو شاہی فرمان کے ذریعے سعودی عرب کا نیا ولی عہد اور نائب وزیر اعظم اختیار کیے جانے پر پر خلوص تہنیت کا اظہار کیا۔ صدر السیسی نے کہا کہ وہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں نئے ولی عہد ، مملکت سعودی عرب اور اس کے عوام کی ترقی اور خوش حالی کے متمنی ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اس تہنیتی پیغام پر مصری صدر کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔

تیونس کے صدر الباجی قائد السِبسی نے بھی شہزادہ سلمان کو مملکت کا ولی عہد بننے پر بھرپور مبارک باد پیش کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی ولی عہد کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

کویت کے فرماں روا نے سب سے پہلے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اپنا نیا ولی عہد منتخب کرنے پر مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے سعودی فرماں روا کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمسایہ مملکت کی قابل قیادت کے تحت سعودی عرب کی ترقی اور خوش حالی کے متمنی ہیں۔

ادھر ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام کی خبر کے مطابق ایران نے شاہ سلمان کے فیصلہ کی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے محمد بن نائف کا تختہ الٹنے کا ایک غیر محسوس عمل قرار دیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کے فیصلے پر لکھا کہ سعودی عرب میں بغاوت: بیٹے کو باپ کا جانشین بنا دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز