الجزیرہ چینل سے کیوں اس قدر نفرت کرتا ہے سعودی عرب، جانیں یہ اہم وجہ

Jun 24, 2017 01:33 PM IST | Updated on: Jun 24, 2017 03:08 PM IST

دبئی۔  قطر پر بائیکاٹ نافذ کرنے والی چار عرب ریاستوں نے دوحہ حکومت کو الٹی میٹم جاری کیا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹی وی بند کرے، ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرے، ترک اڈہ بند کرے اور تاوان ادا کرے۔ سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارا ت کی 13 نکاتی مطالبات کی فہرست بھی ہے جن کا مقصد دولت مند ہمسایہ کی دو دہائی پرانی مداخلت کی خارجہ پالیسی کو بدلوانا ہے جب سے وہ برافروختہ ہیں ۔ کویت اس تنازعہ میں ثالثی کررہا ہے۔ قطری حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت مطالبات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزارت خارجہ باقاعدہ اس کا جواب کویت کے سپرد کرے گی۔ تاہم کہا کہ مطالبات غیر معقول اور ناقابل عمل ہیں ۔

قطر حکومت کے مواصلاتی آفس کے ڈائرکٹر شیخ سیف الٹانی نے کہا ’’مطالبات سے ا س بات کی تصدیق ہوگئی ہے جو قطر شروع سے کہہ رہا ہے ۔ غیر قانونی پابندیوں کا کوئی تعلق دہشت گردی سے نمٹنے سے نہیں ہے اس کا مقصد قطر کے اقتدار اعلی کو محدود کرنا اور اس کی خارجہ پالیسی باہر سے چلانا ہے۔ قطر کی نیم سرکاری انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات انسانی حقوق کنونشن کی خلاف ورزی ہیں اور قطر کو انہیں قبول نہیں کرنا چاہئے۔ وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے پیر کے روز کہا تھا کہ قطر ان چار ریاستوں سے اس وقت تک بات نہیں کرے گا جب تک اس ماہ توڑے گئے معاشی سفارتی اور سفر کے رابطے بحال نہیں ہوجاتے۔ پابندیاں لگانے والے ممالک قطر پر دہشت گردی کی مالی مدد، علاقائی بے چینی کو ہوا دینے اور دشمن ایران سے قربت کے الزامات لگاتے ہیں ۔ قط رنے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے پڑوسی آمرانہ خاندانی اور فوجی حکمرانوں کی حمایت نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

الجزیرہ چینل سے کیوں اس قدر نفرت کرتا ہے سعودی عرب، جانیں یہ اہم وجہ

رائٹرز

یہ جھگڑا امریکہ کے لئے بہت بڑی آزمائش ہے کیونکہ قطر میں اس کا بہت بڑا اڈہ ہے جہاں اس کے 11 ہزار فوجی تعینات ہیں اور مشرقی وسطی میں فضائی طاقت کا ہیڈکواٹر ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پابندیوں کی حمایت کی ہے مگر ان کے دفاع اور خارجہ محکموں نے غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے جس سے ملا جلا رجحان ملا ہے ۔ ٹرمپ نے قطر کو ’’دہشت گردی کی اعلٰی سطح پر مالی مدد کرنے والا بتایا ہے‘‘ مگر 5 روز کے بد انکے پنٹاگن نے اسے 12 ارب ڈالر کے جنگی جہاز فروخت کردیئے۔ قطر کی حمایت کرنے والا خطہ کا سب سے طاقتور ملک ترکی ہے جہاں کے صدر طیب اردوان کی جڑیں ایک اسلام پسند سیاسی پارٹی میں اسی طر ح ہیں جیسی تحریکوں کی خطہ میں قطر حمایت کرتا ہے پابندیاں لگائے جانے کے چند روز کے اندر ترکی نے حمایت ظاہر کرنے لئے قطر میں اپنے اڈوں کے لئے قانون کے ذریعہ مزید فوج بھیج دی۔ وزیر دفاع فکری آئسک نے اڈہ بند کرنے کے مطالبہ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے یہ دوحہ حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات میں مداخلت ہے ۔ ترکی شاید وہاں اپنی موجودگی اور بڑھائے گا۔

قطر نے پچھلی دہائی میں اپنی وسیع دولت کا استعمال غیر ممالک پر اپنا اثرو رسوخ بڑھانے پر کیا ہے۔ اس نے پورے مشرق وسطی میں خانہ جنگیوں میں حصہ لینے والی تنظیموں اور بغاوت کرنے والوں کی حمایت کی ہے جس سے مصر کے موجودہ حکمران اور سعودی عرب چراغ پا ہوگئے۔کیونکہ اس نے قاہرہ میں اخوان المسلمین حکومت کی حمایت کی تھی جس کا 2013 میں فوج نے تختہ پلٹ دیا تھا۔ قطر کا سرکاری مدد والا الجزیرہ چینل مشرق وسطیٰ میں بے حد مقبول ہوگیا تھا جس سے عرب حکومتیں مشتعل ہوگئی تھیں کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں میڈیا پر سختی سے کنٹرول رکھا ہوا تھا۔ الجزیرہ نے بند کئے جانے کے حکم پر کہا ہے ’’یہ اور کچھ نہیں محض خطہ میں اظہار رائے کی آزادی کو خاموش کرانے کی کوشش ہے‘‘۔ مطالبات میں قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ چاروں ملکوں کے گھریلو اور خارجہ امور میں مداخلت بند کرے اور ان کے شہریوں کو قطری شہریت دینے سے باز رہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ وہ اخوان المسلمین ، داعش، القاعدہ حزب اللہ اور شام میں القاعدہ کی شاخ ’’جبات فتح الشام‘‘سے تعلقات منقطع کرے اور قطر میں رہنے والے تمام دہشت گرد خودسپردگی کریں۔ قطر اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں یا وہ انہیں پناہ ددیتا ہے۔

اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو کم سطح پر لائے۔ تجارتی روابط محدود کرے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے ممبران کو ملک سے نکالے ۔ قطر ان کی موجودگی سے انکار کرتا ہے۔ پابندیاں لگانے والے ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ قطری پالیسوں کی وجہ سے انہیں جو نقصانات اٹھانے پڑے ہیں قطر ان کی تلافی کے لئے وہ تاوان ادا کرے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور غرفاش نے ٹوئیٹر پر کہا ہے اتنے سال تک سازشیں کرنے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اپنے پڑوسیوں کے پاس واپس لوٹنے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ابھی یہ مطالبات عام نہیں کئے گئے ہیں، رائٹر نے ایک افسر سے یہ حاصل کئے ہیں۔

قطریوں نے ان مطالبات کو غیر معقول بتایا ہے خصوصا الجزیرہ کو بند کرنے کی بات جسے لاکھوں عرب اپنی آواز سمجھتے ہیں جس میں خطہ کے آمر حکمراں کو چیلنج کیا جاتا ہے مگر جسے پڑوسی حکومتیں اسلام پسندوں کے پرچار کا ذریعہ بتاتی ہیں۔ 40 سالہ حسیب منصور نے کہا ’’آپ تصور کیجئے اگر کوئی ملک سی این این کو بند کرنے کی مانگ کرے تو کیسا لگے گا۔ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس برآمد کرنے والے اور ملک میں محض تین لاکھ شہری ہیں۔ 27 لاکھ کی باقی آبادی غیر ملکی ملازمین پر مشتمل ہے جو زیادہ تر تعمیراتی کام میں لگے ہیں۔ پابندیوں کی وجہ سے وہ زمین کے راستہ سے سعودی عرب سے سامان درآمد نہیں کرسکا اور متحدہ عرب امارات سے بحری جہازوں سے بڑے بڑے کنٹینر نہیں لائے جاسکتے۔ مگر اس نے فورا ہی متبادل راستے تلاش کرکے معاشی زوال سے خود کو بچا لیا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے اسکے ان شہریوں کو ذاتی طور سے پریشانی ہورہی ہے جو پڑوسی ممالک میں رہتے ہیں یا ان کے رشتہ دار آبادی پابندیاں لگانے والے ممالک نے وہاں سے نکل جانے کے لئے دو ہفتہ کی مہلت دی تھی جو پیر کو ختم ہوگئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز