شمالی کوریا کے لئے فوجی متبادل ایک تباہی لانے والا ہوگا: ٹرمپ

Sep 27, 2017 04:08 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 04:08 PM IST

واشنگٹن۔  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی مہم تباہ خیز ہو گی، لیکن شمالی کوریا کے بیلسٹک اور ایٹمی ہتھیار پروگرام کے خلاف فوج کا استعمال پہلا متبادل نہیں ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کل وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہم دوسرے متبادل کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں، لیکن اسے ترجیح نہیں دی جائے گی لیکن اگر ہم اس متبادل کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی تباہی والاہوگا۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ شمالی کوریا کے لئے ایک تباہی ہوگی۔ جسے فوجی متبادل کہتے ہیں ۔ اگر ہمیں اسے اختیار کرنا پڑا تو ہم کریں گے‘‘۔

امریکہ کے ایک اعلی فوجی اہلکار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود امریکہ  کی شمالی کوریا کی فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جو ایک خطرے کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ اسی کڑی میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے پیر کے روز امریکہ کے جنگ کے کا اعلان کا دعوی کیا اور اس کا معقول جواب دینے کی دھمکی دی۔تاہم، امریکہ نے شمالی کوریا کے دعوی کو بے تکا قرار دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربہ کے پروگرام کو جاری رکھنے سے ناراض امریکہ نے اس کے خلاف گزشتہ جمعرات کو پابندی کا اعلان کیا تھا اور ہفتہ کو اس کے مشرق کی طرف بمبارجہاز اڑاکر طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ دونوں ملکوں کےدرمیان جاری لفظی جنگ کے دوران چین نے درخواست کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے الزامات جوابی الزامات بند کریں ۔

شمالی کوریا کے لئے فوجی متبادل ایک تباہی لانے والا ہوگا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ : فائل فوٹو۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورین جزیرے میں جنگ بھڑکتی ہے تو پھر اسے کوئی بھی جیت نہیں پائے گا ۔ چین دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کی دھمکی والی بیان بازی کو مسترد کرتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے کل نئی دہلی میں صحافی کو بتایا کہ امریکہ شمالی کوریا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے سفارتی طریقے سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سیکورٹی کونسل کے ذریعہ عائد پابندی اس کا حصہ ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ مسئلہ سفارتی طور پر حل ہوجائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز