کابل میں عراقی سفارتخانہ کے باہر حملہ، حملہ آور مارے گئے

دبئی۔ افغانستان کی راجدھانی کابل میں عراق کے سفارتخانہ پر دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

Aug 01, 2017 12:57 PM IST | Updated on: Aug 01, 2017 12:57 PM IST

دبئی۔ افغانستان کی راجدھانی کابل میں عراق کے سفارتخانہ پر دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس خودکش حملہ کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا تاہم سفارت خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا لیکن ایک پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم ازکم چار دہشت گردوں نے سفارت خانے پر حملہ کیا تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عراقی سفارت کاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کردیا۔ افغان پولیس نے بتایا کہ کابل میں عراقی سفارت خانے کے باہر کار بم دھماکا ہوا، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ افغان وزرات داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق سفارت خانے میں موجود تمام عراقی سفارت کاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ترجمان وزرات داخلہ کی جانب سے خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملے میں تین مسلح حملہ آور ملوث تھے۔

دوسری جانب، سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سفارت خانے کے باہر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ عراقی سفارت خانے پر ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی، پروپیگنڈا ایجنسی ’اعماق‘ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’حملہ داعش سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے کیا‘ تاہم مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

کابل میں عراقی سفارتخانہ کے باہر حملہ، حملہ آور مارے گئے

جائے حادثہ کے نزدیک واقع ایک اسٹور کے مالک اور حملے کے عینی شاہد حافظ اللہ نے بتایا کہ انہوں نے 2 پولیس اہلکاروں کی لاشیں دھماکے کے بعد زمین پر دیکھیں۔ جائے حادثہ پر موجود مریم نامی خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ’دھماکہ بہت شدید تھا، میں بہت ڈر گئی‘۔ مریم کا مزید کہنا تھا کہ وہ قریب واقع افغانستان کی قومی ایئرلائن سروس میں کام کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ کابل کے مغربی علاقے میں ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 24 افراد ہلاکت کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ 24 جولائی کو ہونے والے حملے میں طالبان حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی وزارت کان کنی کے ملازمین کو لے کر جانے والے بس سے جا ٹکرائی تھی۔ خیال رہے کہ افغان دارالحکومت میں خودکش حملوں اور دھماکوں کا رونما ہونا معمول کی بات ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 کے ابتدا میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے افراد میں پانچواں حصہ کابل میں ہلاک ہونے والے شہریوں پر مشتمل تھا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز