بابری مسجد تنازع : سوالوں کے گھیرے میں شری شری کا اجودھیا دورہ ، اسد الدین اویسی نے بتایا جوکر

Nov 16, 2017 08:13 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 09:53 AM IST

لکھنؤ: رام جنم بھومی تحریک سے منسلک ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی نے کہا شری شری روی شنکر غیر سرکاری تنظیم چلاتے ہیں اور اس کے لئے بیرون ملک سے چندہ لیتے ہیں. انہوں نے الزام لگایا کی شری شری اپنے برانڈ کو فروخت کرنے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں. مسٹر ویدانتی نے کہا ایودھیا کے لئے جیل ہم گئے، لاٹھی ہم نے کھائی معاملے میں کود وہ گئے۔ وہی نرموہی اکھاڑے کے نریندر گری نے صاف کہا شری شری نوٹنکی کر رہے ہیں۔

آل انڈیا اکھاڑا پریشد کے چیئرمین مسٹر نریندر گری نے صحافیوں کو بتایا کہ وشو ہندو پرشد اور سنت برادری مندر تعمیر کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا اس صورت میں شری شری کی مدخلت ٹھیک نہیں ہے۔مسٹر نریندر گری نے کہا کہ شری شری کو اپنی غیر سرکاری تنظیم کو چلانے پر دھیان دینا چاہئے۔کانگریس کے یوپی کے صدر راج ببر نے تو کہا کہ شری شری کشمیر، اور آئی ایس آئی ایس کے پاس بھی معاہدے کے لئے جاچکے ہیں، مگر کیا رہا۔

بابری مسجد تنازع : سوالوں کے گھیرے میں شری شری کا اجودھیا دورہ ، اسد الدین اویسی نے بتایا جوکر

شری شری کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے دل میں نوبل انعام حاصل کرنے کی خواہش یہ بات اس وقت اجاگر ہوئی جب شری شری روی شنکر نے پاکستان کی طالبہ ملالہ يوسف زئي کو امن کا نوبل انعام دیئے جانے پر اعتراض جتایا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملالہ يوسف زئي نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے جس کے لئے انہیں امن کا نوبل انعام دیا جانا چاہئے۔ روی شنکر نے یہ بھی بتایا کہ انہیں بھی نوبل انعام کی تجویز ملی تھی۔ایک پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے شری شری نے کہا تھا کہ مجھے بھی امن کا نوبل انعام دینے کی تجویز دی گئی تھی لیکن میں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کیونکہ میں کام میں اعتماد رکھتا ہوں، ایوارڈ میں نہیں۔

شری شری کی مہنت نرتیہ گوپال داس سے ملاقات

قبل ازیں ہندو رہنما شری شری روی شنکر نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر اور منرام چھاؤنی کے مہنت نرتیہ گوپال داس سے ملاقات کی ۔مندر مسجد تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش میں ثالث کا کردار ادا کر رہے شری شری روی شنکر نے نرتیہ گوپال داس سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا کہ یہاں ایک نیا باب شروع ہونے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کی خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعہ اس کا حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں اور کچھ دیگر سادھو سنتوں اور مسلم رہنماؤں سے ملاقات کریں گے.انہوں نے کہا کہ بھارت ایک امن پسند ملک ہے۔ یہاں ہر مسئلے کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

Shri-Shri-and-Iqbal-Ansari

اقبال انصاری سے بھی شری شری کی ملاقات

اپنے اجودھیا دورہ کے دوران شری شری نے بابری مسجد کے اہم فریق اقبال انصاری سے بھی ملاقات کی ۔ تاہم یہ ملاقات صرف پانچ منٹوں تک ہی چلی ۔ میٹنگ کے بعد اقبال انصاری نے کہا کہ یہ بات چیت آئندہ بھی جاری رہے گی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شری شری کو ہندو اور مسلم اتحاد کی بھی اطلاع دی ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ہی سماج کے لوگ کافی خوشی سے رہتے ہیں ، دونوں کی رائے کافی اچھی ہیں ، مگر لیڈران گڑبڑ ہیں۔

بیکار ہے شری شری روشنکر کی کاوش: نریندر گری

ادھر آل انڈیا اکھاڑا پریشد کے چیئرمین نریندر گیری نے ارٹ افلونگ کےشری شری روی شنکر کی اجودھیا مسئلے کے تئیں کاوش کو غیر ضروری بتایا۔ آج وہ وزیراعلی سے ملنے آئے تھے۔ ا نہوں نے مسٹر یو گی کے ساتھ بابری مسجد ۔رام مندر اور2019 میں الہ آباد میں منعقد ہونے والے کمبھ میلے پر غور کیا۔

وزیر علیٰ سے ملاقات کے بعد مسٹر نریندر گری نے صحافیوں کو بتایا کہ وشو ہندو پریشد اور سنت برادری مندر تعمیر کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی صورت میں شری شری کی مداخلت ٹھیک نہیں ہے۔مسٹر نریندر گری نے کہا کہ شری شری کو اپنی غیر سرکاری تنظیم کو چلانے پر دھیان دینا چاہے۔

owaisi

بابری مسجد کے مسئلہ کو مذاق بنادیا گیا ہے: اسدالدین اویسی

دریں اثنا بیرسٹر اسدالدین اویسی ایم پی و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے ایک ٹی وی چینل کی جانب سے بابری مسجد مسئلہ پر نرموہی اکھاڑہ کے مہنت دینیندرداس کے اسٹنگ آپریشن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو مذاق بنادیا گیا ہے ۔ اس آپریشن میں دینیندر داس نے دعوی کیا تھا کہ سنی وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے بات چیت جاری ہے اور بورڈ کو ایک کروڑ سے 20کروڑ روپئے تک فراہم کرتے ہوئے بابری مسجد کے مقام پر مندر بنایا جائے گا۔ صدر مجلس نے کہا کہ مہنت کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ اتنی رقم ان کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ کیا ان کے پاس کوئی سونے کی کان ہے یا پھر ان کے پاس سے پٹرول نکل رہا ہے ؟ بیرسٹراسدالدین اویسی آج دارالسلام میں بابری مسجد کے مسئلہ پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے ۔

صدر مجلس نے کہا کہ سنی وقف بورڈ میں 10ارکان شامل ہیں ۔ ان میں 2متولی ‘2وکلاء ایک رکن پارلیمنٹ اور ایک رکن اسمبلی بھی شامل ہیں۔ دینیندر داس کو یہ بتانا چاہئے کہ کس رکن سے ان کی بات ہوئی ہے ۔صدر مجلس نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ عدالت میں زیرالتواء ہے ‘ یہ کوئی نجی جائیداد کا معاملہ نہیں ہے۔ دینندر داس کو چاہئے کہ وہ جھوٹ بولنا بند کردیں۔ ان کا یہ بیان ملک کو گمراہ کرنے کی سازش کے مترادف ہے ۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسجد کی اراضی کی رقم کون لے گا۔ کوئی بھی مسلمان اتنا گرنہیں سکتا۔ دینندر داس جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے بیان سے حقیقت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔

شری شری سے کچھ بھی نہیں ہونے والا

صدر مجلس نے بابری مسجد معاملہ سری سری روی شنکر کی جانب سے ثالثی رول ادا کرنے اور مختلف فریقین سے بات چیت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الٹی ہوگئی سب تدبیریں ۔ غلاموں نے کچھ کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری سری روی شنکر اس معاملہ کے حل کے لئے پھرتے رہیں لیکن کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے۔ یہ بات ہنوز واضح نہیں ہوسکی کہ سری سری روی شنکر نے اس سلسلہ میں کس سے بات کی ہے ؟ کیا انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر سے بات کی ہے یا پھر سنی وقف بورڈ کے چیرمین سے تبادلہ کیا ہے ۔ حالانکہ مسلم پرسنل لابورڈ اور سنی وقف بورڈ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ روی شنکر سے وہ بات کرنا نہیں چاہتے۔صدر مجلس نے سری سری روی شنکر اور مہنت دینندر داس کو ’’جوکرس‘‘ سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرکس نہیں ہے ‘اس مسئلہ پر سنجیدگی ہونی چاہئے ۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا ہے اور میڈیا میں نمایاں ہونا چاہتا ہے ۔

سری سری روی شنکر کی جانب سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں سے بات چیت کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے اور وہ گمراہ کررہے ہیں جبکہ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے واضح کیا ہے کہ کسی نے بھی ان سے فون پر بات نہیں کی ہے اور نہ ہی ربط پیدا کیا ہے ۔روی شنکر ملک کو گمراہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے دینندرداس کے اسٹنگ آپریشن پر کہا کہ ہیڈلائنس ٹوڈے کو چاہئے کہ وہ مہنت سے یہ پوچھے کہ یہ رقم کہاں سے آئی ہے ؟ بابری مسجد مسئلہ پر ہوا میں پتنگیں اڑانا ‘ گمراہ کرنے والے بیانات اور افواہیں پھیلانا بند ہونا چاہئے ۔ اگر کسی کو بوکھلاہٹ ہوتو وہ قانونی طور پر دوسرے معاملہ پر اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کریں لیکن اس معاملہ پر سنجیدگی ہونی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ عدالت کے زیردوراں ہے۔

صدر مجلس نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسجد خریدی نہیں جاسکتی اور نہ ہی فروخت کی جاسکتی ہے ۔ کوئی بھی سچا مسلمان اس بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ وہ مہنت کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ہندوستان دیکھنا چاہتا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء یہ معاملہ ہندوستانی دستور اور شواہد کی بنیاد پر حل ہو نہ کہ ’’ انڈیا ٹوڈے ۔آج تک‘‘ کی بنیاد پر ۔ انہو ں نے کہا کہ ہر کوئی ثالث بننا چاہتا ہے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ہر کوئی نوبل انعام ‘میگسیسے ایوارڈ ‘پدمابھوشن ‘ بھارت رتن ایوارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ بیرسٹراسداویسی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ عدالت کے باہر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ صدر مجلس نے کہا کہ سری سری روی شنکر کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کے حل کے لئے کوششیں کرنے سے پہلے این جی ٹی کی جانب سے ان پر عائد کردہ 80لاکھ کا جرمانہ ادا کریں اس کے بعد امن کی بات کریں۔

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم : فائل فوٹو۔

عدلیہ سے باہر کوئی بھی بات چیت متفقہ موقف کے خلاف :ملی کونسل

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے کہا ہے کہ اب جب کہ بابری مسجد کی ملکیت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں شروع ہونے والا ہے ، مقدمہ کو کمزور کرنے کی خطرناک ماحول سازی کی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کو اس جھانسے میں نہیں آنا چاہئے۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ بابری مسجد کا تنازع ہندوستانی مسلمانوں کا بہت اہم اور حساس مسئلہ ہے ، ملت اسلامیہ کا متفقہ عقید ہ ہے کہ وہاں گذشتہ پانچ سوسال سے مسجد تھی جسے زبردستی ایک مذہب کے کچھ لوگوں نے رام جنم بھومی قراردینے کی کوشش کی ، اسے سیاسی رنگ دیکر بڑھاوادیاگیا یہاں تک ایک منحوس وقت وہ بھی آیا جب وہ مسجد شہید کرد ی گئی اوراب عدالت میں ملکیت کا مقدمہ زیر سماعت ہے ،5 دسمبرسے سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہورہی ہے لیکن افسوس کی بات ہے اس سے قبل مقدمہ کو کمزور کرنے کی خطرناک ماحول سازی کی جارہی ہے اور مسلمان بھی کسی حدت تک اس کے شکار ہورہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ پورے مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بابری مسجد کا مقدمہ لڑرہی ہے ،بورڈ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ فیصلہ عدلیہ میں ہی ہوگا ،عدلیہ کے باہر کوئی بھی فیصلہ ناقاقبل ہے ،ایسے میں بورڈ کے کچھ ممبران کا عدالت سے باہر بابری مسجد تنازع کے حل کیلئے ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور ملاقات کرنا نہ صرف بورڈ کے موقف کے خلاف ہے بلکہ یہ کیس کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر منظور عالم نے مزید کہاکہ بورڈ کے اعلامیہ میں یہ با واضح ہے کہ عدلیہ کے باہر کوئی فیصلہ ناقابل قبول ہوگا اور نہ ہی کوئی کوشش کی جائے گی لیکن بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان رپورٹوں سے بے چینی پیدا ہونا یقینی ہے جس میں یہ دعوی کیا گیاہے کے بورڈ کے ایک اہم رکن نے شری شری روی شنکر سے ملاقات کی ہے اور صلح سمجھوتہ پر بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ 5دسمبر سے سماعت شروع ہورہی ہے اس لئے حکومت پس پردہ کچھ لوگوں کو کھڑا کرے کیس کو ایک فریق کے حق میں کرنے اور یہ پیغام دینے کی کوشش کرنا چاہتی ہے کہ مسلمان بھی بابری مسجد کی جگہ مندر کیلئے دینے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایسی کوئی بھی کوشش بہت بڑی تباہی کا ذریعہ بنے گی اور کیس کمزور ہوگا جس کا خمیازہ تمام مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل بورڈ سے اپیل کرتی ہے کہ و ہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایسی کسی بھی سازش کو پنپے سے روکے اور بورڈ کے جو ممبران اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں ان کا محاسبہ کرے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز