بحرین میں قتل کے قصورواروں کی سزائے موت پر عمل درآمد

Jan 16, 2017 08:32 AM IST | Updated on: Jan 16, 2017 08:32 AM IST

ریاض۔ بحرین میں تین افراد کو متحدہ عرب امارات (یواے ای )کے ایک اور دو بحرینی پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ۔ تینوں قصور واروں کا شیعہ مسلک سے تعلق تھا اور ان پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے مارچ 2014 میں ایک بم دھماکہ کیا تھا تاکہ شورش کو بھڑکایا جا سکے۔ سرکاری نیوز ایجنسی بی این اے کے مطابق ان تینوں افراد کو  گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا۔

جب ان کی سزائے موت سے متعلق خبر آئی تو سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

بحرین میں قتل کے قصورواروں کی سزائے موت پر عمل درآمد

تصویر: العربیہ ڈاٹ نیٹ

بحرین کی 2011 کی بغاوت کے بعد سے وہاں پہلی بار سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ بغاوت کی قیادت شیعہ فرقے کی جانب سے وسیع سیاسی حقوق کے لیے کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سنی حکومت کی جانب سے شیعہ ناقدین کے خلاف گذشتہ برسوں کے دوران کارروائی میں اضافہ دیکھا گيا ہے جس میں ملک کے ممتاز ترین شیعہ عالم کی شہریت کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ عباس السمیع، سامی مشیمع اور علی السنکیس کو بم دھماکے میں تین پولیس اہلکار کی جان لینے کے لیے قصور وار قرار دیا گيا تھا۔ ان لوگوں کو کو عدالت عالیہ کی جانب سے سزا کی توثیق کے ایک ہفتے بعد موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے سید احمد الوادعی نے کہا کہ یہ بحرین کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ یہ قدم بحرین اور پورے خطہ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔'

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز