اسرائیل میں فلسطینی مساجد میں لاوڈاسپیکر سے اذان پر پابندی کے متنازع قانون پر ابتدائی رائے شماری ، فلسطینی رہنماوں کا شدید ردعمل

Mar 09, 2017 12:07 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 12:11 PM IST

یروشلم : گزشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کے متنازع قانون پر ابتدائی رائے شماری کی گئی ، مگر اس موقع پر عرب برادری کے نمائندہ ارکان کنیسٹ نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔خیال رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ میں پیش کردہ قانون کے دو الگ الگ حصے ہیں۔ ایک حصے میں فلسطینی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے اور دوسرے میں یہودی معابد میں لاؤڈ اسپیکروں پر جرس اور سیٹیاں بجانے کی ممانعت کی سفارش کی گئی ہے۔

کنیسٹ میں یہ متنازع قانون گزشتہ کئی ماہ سے منظور کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ترمیم کے بعد یہ قانون ایک بار پھر پارلیمنٹ میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا۔ ابتدائی رائے شماری میں منظور کے بعد اب اس کی حتمی منظوری کے لیے دوسری اور تیسری رائے شماری کےعمل سے گذارا جائے گا۔

اسرائیل میں فلسطینی مساجد میں لاوڈاسپیکر سے اذان پر پابندی کے متنازع قانون پر ابتدائی رائے شماری ، فلسطینی رہنماوں کا شدید ردعمل

نئے ترمیمی بل کے تحت رات گیارہ سے صبح سات بجے تک مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی ہوگی۔ اس طرح نماز فجر کی اذان پر براہ راست پابندی لگا دی گئی ہے۔صہیونی ریاست کی طرف سے اذان پر پابندی کے قانون پرعمل درآمد کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں بھی مقرر کی ہیں۔ قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والی مساجد کی انتظامیہ ، امام یا موذن کو 1200 امریکی ڈالر کے مساوی یعنی پانچ ہزار اسرائیلی شکل جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے مساجد میں اذان دینے پر پابندی کی صہیونی سازش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔فلسطینی وزیر اوقاف ومذہبی امور الشیخ یوسف ادعیس نے اذان پر پابندی کے قانون کو صہیونی ریاست کی نسل پرستی کی ایک نئی شکل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اذان پر پابندی کاقانون فلسطینیوں کے خلاف مذہبی جنگ چھیڑنے اور شعائر اسلام اور مسلمانوں کے عقیدے پر حملہ ہے۔ایک بیان میں الشیخ ادعیس نے کہا کہ صہیونی ریاست کے متنازع قانون سے نسل پرستی اور مسلمان دشمنی کی بو آ رہی ہے۔ جن نام نہاد دعووں اور وجوہات کی آڑ میں یہ قانون منظور کیا گیا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ صہیونی ریاست ایک سازش کے تحت مساجد میں اذان پر پابندی عاید کرکے فلسطینی مسلمانوں کے عقیدے ، مذہب اور عبادت کے معاملات میں دخل اندازی کررہی ہے۔

فلسطینی وزیر مذہبی امور و اوقاف نے عالم اسلام اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی مساجد میں اذان پر پابندی کے قانون کے خلاف آواز بلند کریں اور قانون پر عمل درآمد رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا ہے کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کا قانون صرف اذان نہیں بلکہ کل کو نماز اور مساجد کے قیام پر پابندی کا پیش خیمہ ہے۔ اسرائیل منظم پالیسی کے تحت فلسطینی مسلمانوں، ان کے مقدس مقامات اور شعائر پر پابندی کی کوششیں کررہا ہے۔فلسطینی وزیر نے کہا کہ قوم صہیونی ریاست کے ظالمانہ قانون کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔ یہ قانون فلسطینی مذہبی روایات، اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب وثقافت پر صہیونیوں کا ایک نیا وار ہے۔ اس طرح کے مکروہ حربوں کے ذریعے صہیونی دشمن فلسطینی قوم کی تاریخ اور تہذیب وثقافت کو مٹا نہیں سکتا۔

صہیونی کنیسٹ میں متحدہ عرب محاذ کے سربراہ ایمن عودہ نے مساجد میں اذان پر پابندی کا اسرائیلی قانون پرزے پرزے کرڈالا۔اذان پر پابندی کے متنازع قانون کی منظوری کے بعد عرب متحدہ محاذ کے چیئرمین اور اسرائیلی کنیسٹ کے رکن ایمن عودہ نے مسودہ قانون کی کاپیاں پھاڑ کرپھینک دیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایمن عودہ نے کہا کہ اس قانون کا تعلق ماحولیات سے ہے اور نہ ہی شور وغل روکنے کے لیے ہے۔ یہ نسل پرستانہ قانون مسلمان عرب شہریوں اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی مذہبی انتہا پسندی کی بدترین شکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اذان پر پابندی کا قانون ’النکبہ‘اور فلسطینیوں کو غلام بنانے کے ظالمانہ قوانین کا تسلسل ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہوتا ہے تو وہ اس کی پابندی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہ تو اذان پر پابندی کا قانون تسلیم کرتے ہیں اورنہ ہی فلسطینیوں کے مکانات مسماری کا قانون تسلیم کریں گے۔ اس طرح کے تمام قوانین فلسطینیوں اور عرب قوم کے خلاف اسرائیل کی نسل پرستی کا واضح ثبوت ہیں۔ فلسطین کی دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور سماجی انجمنوں نے بھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان پر پابندی کے قانون پر رائے شماری کی شدید مذمت کی ہے اور اسے صہیونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز