میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے: بنگلہ دیشی وزیر خارجہ

Sep 11, 2017 01:43 PM IST | Updated on: Sep 11, 2017 01:43 PM IST

ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے کل کہا کہ میانمار کے تشدد زدہ صوبہ رخائن میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں تقریبا تین لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ راجدھانی ڈھاکہ میں سفارتکاروں سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی نے کہا کہ عالمی برادری اسے نسل کشی سے تعبیر کر رہی ہے۔ ہم بھی اسے نسل کشی کا نام دیتے ہیں۔

علی نے ڈھاکہ میں مغربی ممالک اور عرب ریاستوں کے سفارت کاروں اور بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے سربراہان سے ملاقات کی اور روہنگیا کے سیاسی حل اور انسانی بنیاد پر امداد کے لئے ان کی حمایت طلب کی۔ انہوں نے سفارتکاروں سے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں بنگلہ دیش میں تقریبا تین لاکھ روہنگیا پہنچ چکے ہیں اور ملک میں اس طرح کے پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے: بنگلہ دیشی وزیر خارجہ

وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں موجود کم ازکم دو سفارت کاروں نے کہا کہ وزیر نے انہیں بتایا کہ میانمار میں تشدد کے تازہ ترین واقعہ میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔: تصویر، رائٹرز۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اب یہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں موجود کم ازکم دو سفارت کاروں نے کہا کہ وزیر نے انہیں بتایا کہ میانمار میں تشدد کے تازہ ترین واقعہ میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز