مین ہٹن بم دھماکہ کے سلسلہ میں گرفتار مشتبہ بنگلہ دیشی کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں: بنگلہ دیش

نیویارک/ ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش پولیس کے مطابق امریکہ کے مین ہٹن میں نیویارک پورٹ اتھارٹی پر آج صبح ہوئے بم دھماکہ کے سلسلہ میں گرفتار مشتبہ بنگلہ دیشی نژاد شہری کا اپنے ملک میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

Dec 12, 2017 11:16 AM IST | Updated on: Dec 12, 2017 11:16 AM IST

نیویارک/ ڈھاکہ۔  بنگلہ دیش پولیس کے مطابق امریکہ کے مین ہٹن میں نیویارک پورٹ اتھارٹی پر آج صبح ہوئے بم دھماکہ کے سلسلہ میں گرفتار مشتبہ بنگلہ دیشی نژاد شہری کا اپنے ملک میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی پولیس کے سربراہ اے کے ایم شاهد الحق نے رائٹر کو معلومات فراہم کرتےہوئے بتایا کہ مشتبہ، جس کی شناخت بنگلہ دیشی نژاد عقائد اللہ کےطور پر کی گئی ہے، کے پاسپورٹ نمبر کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ مشتبہ بنیادی طور پر بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع چٹاگانگ کا رہائشی ہے اور وہ آخری بار گذشتہ آٹھ ستمبر کو بنگلہ دیش آیا تھا۔ نیویارک کے مین ہٹن کے علاقے میں نیویارک پورٹ اتھارٹی کے بس ٹرمینل پر حملہ کرنے والاکون تھا؟

دوسری جانب نیویارک پولیس نے بتایا کہ 27 سالہ اس مشتبہ خود کش بمبار کی پہچان عقائد اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کمشنر جیمز اونیل کا کہنا تھا کہ اس نے قدرے کم تکنیکی دھماکہ خیز آلہ جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ جس سے اس نے ارادتاً دھماکہ کیا۔ خود کش حملہ آور کو جھلسنے کے علاوہ دوسرے زخم بھی آئے ہیں اور انہیں اسپتال لے جایا گیا ہے۔ سی بی سی نیوز کے مطابق مشتبہ شخص عقائد اللہ کا تعلق بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ سے ہے اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں گے ساتھ سنہ 2011 میں پناہ گزین ویزے پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا شکار ہونے والے اسلامی ممالک میں بنگلہ دیش شامل نہیں ہے۔

مین ہٹن بم دھماکہ کے سلسلہ میں گرفتار مشتبہ بنگلہ دیشی کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں: بنگلہ دیش

دوسری جانب نیویارک پولیس نے بتایا کہ 27 سالہ اس مشتبہ خود کش بمبار کی پہچان عقائد اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ : فوٹو، اے پی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کے عقائد اللہ اس پالیسی کے تحت امریکہ میں داخل ہوئے جس میں خاندانی بنیادوں پر پناہ گزینوں کو آنے دیا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ اس پالیسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عقائد اللہ بروکلین میں رہنے کے بعد مستقل امریکی شہری بن گئے تھے۔ بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے آخری مرتبہ 8 ستمبر کو ملک کا دورہ کیا تھا۔ امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا عقائد اللہ دولتِ اسلامیہ سے متاثر تھے لیکن ان کا اس گروہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس حملہ کی سخت مذمت کی ہے۔ واشنگٹن میں واقع بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے ای میل پر جاری بیان میں کہا-’’ایک دہشت گرد اپنی ذات یا مذہب کے باوجود ایک دہشت گرد ہے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے‘‘۔ مشتبہ عقائد اللہ دیسی بم کو اپنے جسم پر باندھ کر نیویارک کے پورٹ اتھارٹی میں گھسا تھا۔ دھماکے سے مشتبہ سمیت چار افراد زخمی ہو گئے تھے۔ نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسكو نے اسے ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

نیو یارک کے پولیس کمشنر او نیل کا کہنا تھا ہم ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

نیویارک میں ٹیکسی اینڈ لیموزین کمیشن نے سی این این کو بتایا کہ عقائد اللہ کے پاس سنہ 2012 سے لے کر 2015 تک ٹیکسی ڈرائیور کا لائسنس تھا۔ انھوں نے نیویارک کی پیلی ٹیکسی یا اوبر نہیں چلائی۔ بنگلہ دیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا بنگلہ دیش میں بھی کوئی پولیس ریکارڈ نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز