عالمی کرکٹ میں بی سی سی آئی کی فضیحت، ریونیو اور گورننس کی ووٹنگ میں کراری شکست

Apr 26, 2017 10:19 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 10:19 PM IST

دوبئی: ہندوستانی کرکٹ كنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سي سي) کی بدھ کو بورڈ میٹنگ میں انتظامی ڈھانچے اور آمدنی ماڈل دونوں ہی محاذپر زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا کے سب سے امیر کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی اجلاس میں دونوں محاذ پر تقریبا تمام ارکان نے مسترد کردیا۔ بی سی سی آئی نے آئی سی سی پر دباؤ بنانے کے چکر میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے اپنی ٹیم کا اعلان کو ٹال دیا تھا۔ لیکن آئی سی سی کے ارکان پر اس دباؤ کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

انتظامی ڈھانچے میں بی سی سی آئی کی مخالفت کو 1-9 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آمدنی ماڈل میں ہندوستان بورڈ کو 2-8 سے شکست ملی۔ انتظامی ڈھانچے کے معاملے میں ہندوستان کے حق میں اس کے نمائندے امیتابھ چودھری کا ہی ووٹ آیا جبکہ آمدنی معاملے میں ہندوستان کا ساتھ صرف سری لنکا کرکٹ کے تلنگا سمتپالا نے دیا۔ بی سی سی آئی کے لئے آمدنی شیئر سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس معاملے میں شکست ہندوستانی بورڈ کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بی سی سی آئی کے سابق صدر اور آئی سی سی کے موجودہ چیئرمین ششانک منوہر نے بی سی سی آئی کو اسی کے کھیل میں شکست دے ڈالی۔

عالمی کرکٹ میں بی سی سی آئی کی فضیحت، ریونیو اور گورننس کی ووٹنگ میں کراری شکست

ہندوستانی بورڈ آئی سی سی میں بگ تھری فارمیٹ کے اپنے پرانی آمدنی پر اڑا ہوا تھا جس کا قیام 2014 میں عمل میں آیا تھا۔ نئے آمدنی ماڈل کے تحت بی سی سی آئی کو 29 کروڑ ڈالر کی حصہ داری کی پیشکش کی گئی تھی لیکن بی سی سی آئی کی 57 کروڑ ڈالر کی حصہ داری چاہتے تھے جو پرانے آمدنی ماڈل میں تھی۔ آئی سی سی کے صدر ششانک منوہر نے بی سی سی آئی کی طرف سے مقرر منتظمین کی کمیٹی (سی او اے) کے ساتھ آخری بات چیت میں ہندوستانی بورڈ کو اضافی 10 ملین ڈالر دینے کی بھی پیشکش کی تھی جس سے بی سی سی آئی کی حصہ داری 40 کروڑ ڈالر پہنچ جاتی۔ لیکن بی سی سی آئی نے اس پیشکش كو ٹھکرا دیا تھا اور اب اس کو آئی سی سی بورڈ کی میٹنگ میں گہرا دھچکا بھی لگ گیا۔

بی سی سی آئی نے میٹنگ میں دونوں قراردادوں کے خلاف ووٹ کیا جس سے صاف تھا کہ آئی سی سی میں ہونے والے تبدیلی ہندوستانی بورڈ کو منظور نہیں ہے۔ بی سی سی آئی کو امید تھی کہ اس زمبابوے اور بنگلہ دیش کی حمایت بھی ملے گی ۔ لیکن ان دونوں ممالک نے ہندوستانی بورڈ کا کوئی ساتھ نہیں دیا۔ بی سی سی آئی کی منتظمین کی کمیٹی (سی آئی اے) کے لئے بھی یہ ہار ایک جھٹکے کی طرح رہی جو اس معاملے میں دیگر ممالک کے بورڈز سے بات چیت کر رہی تھی۔

ہندوستانی بورڈ کو آئی سی سی اجلاس میں ملی شکست کے بعد ٹیم انڈیا کی انگلینڈ میں یکم جون سے هونے والی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت پر بھی بحران کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ چیمپئنز ٹرافی میں ہندوستانی کی شرکت کو لے کر بی سی سی آئی اب کیا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ اس نے اب تک اس ٹورنامنٹ کے لئے اپنی ٹیم کا اعلان نہیں ہے۔ اس درمیان سمجھا جاتا ہے کہ جس دوسرے مکمل رکن نے ہندوستان کی حمایت کی وہ شاید کچھ تجاویز پر واضح پوزیشن جاننے کے لیے کچھ اور وقت لینا چاہتا تھا۔ بی سی سی آئی عہدیدار سیکرٹری امیتابھ چودھری اور خزانچی انیرودھ چودھری آئی سی سی کے معاہدے کی قراردادوں کو پہلے ہی ٹھکرا چکے تھے۔

بی سی سی آئی نے زیادہ تر مکمل ارکان کے سامنے اپنی پیشکش بھی رکھی تھی۔ لیکن اسے کوری یقین دہانی کے سوا کچھ حاصل نہیں هوا۔ بی سی سی آئی کی میٹنگ سے پہلے کہا گیا تھا کہ اگر وہ منوہر کی تجویز کو مان لے تو اس کے لئے بہتر ہو گا۔ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے بی سی سی آئی نے اب تک کچھ واضح نہیں کیا۔ہندوستانی بورڈ کو اس بات کو لے گہری ناراضگی ہے کہ آئی سی سی نے پہلے دستخط کئے ہوئے رکن شراکت معاہدے کا احترام نہیں کیا۔ آئی سی سی اجلاس میں ہوئے واقعات کے بارے میں بی سی سی آئی کے اجلاس میں معلومات دی جائے گی اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز