بے نظیر بھٹو قتل معاملہ: دوپولیس اہلکاروں کی سزا پر روک

Oct 06, 2017 09:26 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 09:26 PM IST

اسلام آباد۔  لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بنچ نے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل معاملہ میں دو سینئر پولیس اہلکاروں کی سزا پرروک لگا دی ہے ۔ اخبار ڈان کےمطابق راولپنڈی کی انسداد ہشت گردی (اے ٹی سی )عدالت نے اس سال 31اگست کو سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سعود عزیز اور سابق سینئرپولیس سپرنٹنڈنٹ خرم شہزاد کو اس قتل کے معاملہ میں 17سال کی جیل کی سزاسنائی تھی اور10،10لاکھ روپئے کا جرمانہ لگایاتھا۔ دونوں اہلکاروں کو مجرمانہ لاپروائی اور جائے واردات سے ثبوت مٹانے کے معاملے میں قصور وار قراردیتے ہوئے یہ سزا سنائی گئی تھی ۔

جسٹس طارق عباسی اور جسٹس حبیب اللہ عامرنے پولیس اہلکاروں کی سزا پر آج روک لگا دی۔ پولیس اہلکاروں نے مختلف سطحوں پر اپنی سزا کے خلاف عدالت میں چیلنج کیا تھا۔انکےوکلا نے بتایا کہ دو دو لاکھ روپئے کا ضمانتی بانڈ جمع کرانے کے بعد دونوں اہلکاراڈیالہ جیل سے آج رہا ہوسکتے ہیں ۔ پولیس اہلکاروں نے جرح کے دوران کہا کہ جسٹس اصغرعلی خان نے اس قتل معاملہ میں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ممبران کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کردیا تھا ۔ اس کے علاوہ اصل قصور وارکے خلاف بھی نرمی برتی گئی تھی لیکن دونوں پولیس اہلکاروں کو قصور وار قراردیا گیا ۔

بے نظیر بھٹو قتل معاملہ: دوپولیس اہلکاروں کی سزا پر روک

پولیس اہلکاروں پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے محترمہ بھٹو کی سکیورٹی میں کوتاہی برتی اور انکی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا۔

پولیس اہلکاروں پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے محترمہ بھٹو کی سکیورٹی میں کوتاہی برتی اور انکی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا۔ اس پر دلیل دی گئی جب موت کی وجہ واضح ہوتی ہے تو پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔ ہندستان کی وزیر اعظم اندراگاندھی کا بھی پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز