ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بلقیس بانو نے کہا : ملک کے نظام عدل پر اعتماد میں اضافہ ہوا

May 05, 2017 12:01 AM IST | Updated on: May 05, 2017 12:01 AM IST

بلقیس بانو اجتماعی آبروریزی معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کی تعریف کرتے ہوئے متاثرہ بلقیس بانو نے کہا ہے کہ اس سے ایک بار پھر ان کا ملک کے نظام عدل پر اعتمادم میں اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ عدالت نے اس معاملہ میں نچلی عدالت کے 11 ملزمان کو مجرم ٹھہرائے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ساتھ ہی ساتھ پانچ پولیس اہلکاروں کو بری کئے جانے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو بھی عدالت نے پلٹ دیا۔

عدالت کے فیصلہ کی تعریف کرتے ہوئے بلقیس بانو نے اپنے وکیل کے ذریعہ دیے بیان میں کہا کہ وہ شکر گزار ہیں اور اس فیصلے نے ایک بار پھر ان کا ملک کے نظام انصاف پر اعتماد کو جگا دیا ہے۔

ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بلقیس بانو نے کہا : ملک کے نظام عدل پر اعتماد میں اضافہ ہوا

واضح رہے کہ 2002 میں گجرات فسادات کے دوران 19 سال کی بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، اس وقت وہ 5 ماہ کی حاملہ تھیں۔ مجرموں نے بلقیس بانو کے خاندان کے 14 افراد کوقتل کیا تھا اور فسادات کے دوران وہ نیم کھیڑا میں رہتی تھیں۔۔

انہوں نے کہا کہ ایک انسان، شہری، خاتون اور ماں کے طور پر میرے حقوق کی بے حد 'وحشیانہ طریقے سے خلاف ورزی کی گئی تھی ، لیکن ہمارے ملک کے جمہوری ادارے میں میرا اعتماد برقرار رہا۔ انہوں نے کہا کہ اب میرا خاندان اور میں محسوس کرتے ہیں کہ ہم ایک بار پھر اپنی زندگی بے خوف ہوکر جی سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بلقیس کے ساتھ تین مارچ 2002 کو گجرات فسادات کے دوران ایک گاوں میں اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ بلقیس اور اہل خانہ پر ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کر دیا تھا، جس میں ان کے خاندان کے متعدد ارکان کی موت بھی ہو گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز