لاہور میں دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 21زخمی

لاہور۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے۔

Feb 23, 2017 02:28 PM IST | Updated on: Feb 23, 2017 03:32 PM IST

لاہور۔  پاکستان میں صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ دھماکا جنریٹر پھٹنے کے نتیجے میں ہوا تاہم بعدازاں پنجاب پولیس کے ترجمان نے بم دھماکے کی تصدیق کی۔علاوہ ازیں لاہور کے علاقے گلبرگ میں بھی ایک اور دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی، تاہم وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے گلبرگ میں دھماکے کی تردید کردی۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے ڈیفنس زیڈ بلاک میں ایک زیر تعمیر عمارت میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ جنریٹر پھٹنے کے نتیجے میں ہوا، تاہم پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ 'یہ بم دھماکا تھا'۔جس مقام پر دھماکا ہوا، وہ لاہور کا ایک مصروف اور کمرشیل علاقہ ہے جہاں کئی دفاتر اور کھانے پینے کے مراکز قائم ہیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور اردگرد کی دکانیں بند کروا کر علاقے کو سیل کردیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی طلب کرلیا گیا۔دوسری جانب لاشوں اور زخمیوں کو جنرل ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ ' ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا جنریٹر کا تھا، لیکن چونکہ یہ بہت شدید تھا، اس لیے جنریٹر کا نہیں لگتا'۔ رانا ثناء کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل کے لاہور میں انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے تاہم ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

لاہور میں دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 21زخمی

علامتی تصویر: رائٹرز

لاہور میں حالیہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب رواں ماہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ ان واقعات کے بعد ملک میں سیکیورٹی انتہائی الرٹ ہے جبکہ گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آپریشن 'رد الفساد' کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز