لاس ویگاس فائرنگ: خون کے عطیہ کے لئے ملکی،غیرملکی شہریوں کا تانتا

امریکہ کے لاس ویگاس میں اتوار کی رات موسیقی کی تقریب میں ایک بندوق بردار کی اندھا دھند فائرنگ میں 59افراد کے مارے جانے اور 500سے زائد کے زخمی ہونے کے دوسرے دن سے ہی خون کا عطیہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی شہریوں کی بھیڑ لگ گئی ہے۔

Oct 04, 2017 04:34 PM IST | Updated on: Oct 04, 2017 04:34 PM IST

لاس ویگاس۔  امریکہ کے لاس ویگاس میں اتوار کی رات موسیقی کی تقریب میں ایک بندوق بردار کی اندھا دھند فائرنگ میں 59افراد کے مارے جانے اور 500سے زائد کے زخمی ہونے کے دوسرے دن سے ہی خون کا عطیہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی شہریوں کی بھیڑ لگ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں انسانیت کو تار تار کردینے والے اس واقعہ نے لوگوں کے دل و دماغ میں خوف اور غصہ بھر دیا ہے وہیں دوسری طرف ضروری کاموں کو چھوڑ کر خون کے عطیہ کے لئے ملک کے علاوہ جاپان، سوئزرلینڈ، چین ، ہنڈورس، وینزوئیلا، برازیل اور حال ہی میں زلزلہ کی مار جھیلنے والے میکسیکو کے لوگوں کے سامنے آنے سے لوگوں کے انسانی اعتماد کو مزید مضبوطی ملی ہے۔

یونائیٹڈ بلڈ سروس کے لارا اوورڈوف نے کہا کہ بڑی تعداد میں ان ممالک کے لوگ خون کا عطیہ کے لئے رابطہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میکسیکو سے بھی کچھ لوگ اس مہم میں شامل ہونے کے لئے راست رابطہ کررہے ہیں۔ یہ نہایت دل کوچھو لینے والی پیشکش ہے کیونکہ وہاں کے لوگ زلزلہ کی مار سے ابھی نکل نہیں سکے ہیں اور دوسرے ملک کے لوگوں کی جان بچانے کے لئے اپنا خون دے رہے ہیں۔

لاس ویگاس فائرنگ: خون کے عطیہ کے لئے ملکی،غیرملکی شہریوں کا تانتا

خیال رہے کہ حملہ آور اسٹیفن پیڈوک نے 10سے زائد رائفلوں سے اس خوفناک واقعہ کو انجام دیا او ر بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔

کیلی فورنیا سے یہاں دفتر کے کام سے آئے بنیاد ی طورپر اٹلی کے باشندہ سال میسینا ہوائی اڈہ سے خون عطیہ کرنے کے لئے سیدھے کیمپ پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نفرت سے بھری وارداتوں کا جواب خون عطیہ جیسے کاموں سے دیاجا سکتا ہے اور برائیوں پر جیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ سال میسینا کی طرح کئی غیرملکی شہری خون کا عطیہ کرنے کے لئے گھنٹوں عطیہ کیمپ کے سامنے قطار وں میں کھڑے رہے۔

خیال رہے کہ حملہ آور اسٹیفن پیڈوک نے 10سے زائد رائفلوں سے اس خوفناک واقعہ کو انجام دیا او ر بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔ امریکہ کی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ سمجھا جارہا ہے جہاں ایک مقامی شہری نے اس طرح کے واقعہ کو انجام دیا ہے۔ موسیقی کی تقریب کا لطف لینے کے لئے 22ہزار لوگوں کی بھیڑ جمع تھی اور حملہ آور نے ہوٹل کی 32ویں منزل کی کھڑکی سے نیچے فائر نگ کی۔ بعد میں اس نے خود کو بھی گولی مارکر جان دے دی۔

Loading...

کیلی فورنیا سے یہاں دفتر کے کام سے آئے بنیاد ی طورپر اٹلی کے باشندہ سال میسینا ہوائی اڈہ سے خون عطیہ کرنے کے لئے سیدھے کیمپ پہنچے۔ علامتی تصویر۔ کیلی فورنیا سے یہاں دفتر کے کام سے آئے بنیاد ی طورپر اٹلی کے باشندہ سال میسینا ہوائی اڈہ سے خون عطیہ کرنے کے لئے سیدھے کیمپ پہنچے۔ علامتی تصویر۔

اسٹیفن نیوادا میں میسک وائٹ ریٹائرمنٹ کمیونٹی میں رہتا تھا ۔ پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے سے دس سے زیادہ بندوقیں برآمد کی ہیں۔ امریکہ میں قومی پرچم کو سرنگوں کردیا گیا۔ ملک اور غیرممالک کے لیڈروں نے اس واقعہ پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز