نوبل انعام یافتہ لیوشیا وبو کی آخری رسوم ادا، ان کی اہلیہ کی نظر بندی ختم: چین

Jul 15, 2017 02:57 PM IST | Updated on: Jul 15, 2017 02:57 PM IST

شنيانگ۔  سال 2010 کے نوبل امن انعام یافتہ چینی حقوق انسانی کے رضاکار لیو شیاؤبو کی آخری رسوم آج صبح ادا کردی گئي اور اس کے ساتھ ہی ان کی نظر بندی ختم کردی گئی۔ایک سینئر افسر نے یہ اطلاع دی ہے۔ اس دوران چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے طویل علالت کے بعد گزشتہ روز انتقال کرنے والے لیو شیاوبوکے خلاف بہت ہی غیر شائستہ تبصرہ کرتے ہوئے انہیں "حقیرمجرم" تک کہہ دیا کہ وہ چینی معاشرے کے خلاف تھے۔ شنیانگ شہر کے انفارمیشن آفیسر ژانک کینگيانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر لیو شیاؤبو کی آخری رسومات آج صبح ان کے اہل خانہ کی خواہش پر مذہبی روایات کے مطابق ادا کردی گئي ہيں اور اس موقع پر ان کی بیوی بھی موجود تھیں اور انہیں مسٹر لیو شیاوبوکی باقیات سونپ دی گئی ہيں۔

مسٹر ژانگ نے شنیانگ میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ جہاں تک ان کی معلومات ہے تو محترمہ لیو شیاؤ اب آزاد ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ " محترمہ لیوشیاو اپنے شوہر کے انتقال سے کافی رنجیدہ ہيں ، اس لئے اہل خانہ کی خواہش ہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد وہ بیرونی مداخلت پسند نہيں کریں گی، جوکہ فطری تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ قانون کے تحت چینی شہری کی حیثيت سے ان کے حقوق کی حفاظت کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر لیو شیاؤبو کو سال 2009 میں ایک مبینہ اشتعال انگیز مضمون لکھنے کے الزام میں 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس کی بیوی کو چینی حکومت نے نظربند کر دیا تھا۔ مسٹر شیاؤبو لیور کینسر میں مبتلا تھے انہيں علاج کے لئے پیرول پر جیل سے شنیانگ شہر کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، جہاں جمعرات كو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

نوبل انعام یافتہ لیوشیا وبو کی آخری رسوم ادا، ان کی اہلیہ کی نظر بندی ختم: چین

شنیانگ شہر کے انفارمیشن آفیسر ژانک کینگيانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر لیو شیاؤبو کی آخری رسومات آج صبح ان کے اہل خانہ کی خواہش پر مذہبی روایات کے مطابق ادا کردی گئي ہيں اور اس موقع پر ان کی بیوی بھی موجود تھیں: تصویر، رائٹرز

کینسر کے آخری مرحلے میں بھی چین کی حکومت نے بہتر علاج کے لئے انہيں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہيں دی ۔ ان کی رہائی کے لئے امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ممالک نے چین حکومت پر کافی دباؤ ڈالا تھا جسے چین نے اپنے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک کو اس معاملے میں کچھ بھی نہيں کہنا چاہئے اور حکومت اس بارے میں اپنی ذمہ داری کو بہتر طریقے سے سمجھتی ہے۔ اس دوران سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ"وہ ایک خود پسند، نوآموز اور مغرور شخص تھے جو سماج کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ تھے اور اسی وجہ سے چینی معاشرہ میں ان کی مقبولیت نہيں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ چینی معاشرہ ان کی مخالفت کرتا تھا اور انہیں الگ تھلگ کردیا گیا تھا"۔

لیو شیاؤبو کنبہ کے وکیل مو شاؤپنگ نے رائٹر کو بتایا کہ انہيں یہ علم نہيں ہے کہ آخری رسومات اہل خانہ کی خواہش کے مطابق ادا کی گئی ہيں یا نہيں، کیونکہ ان کے افراد خانہ سے رابطہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیو شیاؤبو کے اہل خانہ کو ا ب بھی حکام کی نگرانی اور کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں اہلیہ لیو شیاؤ اور دیگر افراد خاندان کو لیو شیاؤبو کی تابوت کے ارد گرد کھڑے دکھایا گیا ہے، جس پر سفید پھول رکھے گئے تھے جو چین میں سوگ ظاہر کرنے کی علامت ہے۔ ایک دوسری تصویر میں لیو شیاؤ کو ایک باکس دیا جارہا ہے ، جس میں لیو شیاؤبو کی راکھ (استھی) ہے۔ ایک مغربی سفارتکارنے جمعہ کے روز بتایا کہ چین کی حکومت سے محترمہ لیو شیا اور ان کے بھائی لیو ہیوئی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دلانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز