بدعنوانی کے قصوروار برازیل کے سابق صدر لولا کو 10 سال کی سزا

Jul 13, 2017 03:33 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 03:33 PM IST

برازیلیا۔  برازیل کے سابق صدر لوئز انیشيو لولا ڈی سلوا کو بدعنوانی اور منی لانڈرگ کے معاملے میں مجرم پائے جانے کے بعد تقریبا 10 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ 71 سالہ لولا کو یہ سزا سرکاری تیل کمپنی پیٹروبراس میں بھاری غبن اور رشوت لینے کے مجرم پائے جانے کے بعد سنائی گئی ہے۔ بدعنوانی کے چار اور معاملے میں جانچ کا سامنا کر نے والے لولا سزا کے خلاف اپیل کرکے جیل سے باہر رہ سکتے ہیں۔ قریب سات سال پہلے کرسی سے ہٹنے والے لولا کی ان سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے لئے پوری دنیا نے تعریف کی تھی۔

سابق صدر لولا کو ساؤ پاؤلو میں ایک اپارٹمنٹ کی خریداری اور اس کی ساخت میں تبدیلی کرنے اور املاک کے اعلان میں بے ضابطگی کا مجرم پایا گیا ہے۔ بائیں بازو کے سیاستدان لولا 2003 سے 2010 تک برازیل کے صدر رہ چکے ہیں۔ لولا کی قانونی ٹیم نے ایک بیان میں کہا، ’’وہ بے قصور ہیں اور وہ اس سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ گزشتہ تین برسوں سے لولا کو سیاسی مقصد سے پھنسایا جا رہا ہے۔ ایسی کوئی کافی ثبوت نہیں ہے جس سے وہ مجرم ثابت ہوتے ہوں‘‘۔

بدعنوانی کے قصوروار برازیل کے سابق صدر لولا کو 10 سال کی سزا

کورٹ کے اس فیصلے سے اب لولا کے سیاسی کیریئر ختم ہونے کا امکان ہے۔ سابق امریکی صدر براک اوباما نے انہیں زمین کا سب سے زیادہ مقبول سیاستدان بتایا تھا۔ اس ہائی پروفائل بدعنوانی کے معاملے نے تین برسوں سے برازیل میں کھلبلی مچا رکھی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز