برطانیہ میں پوروپی یونین سے علیحدگی کا باقاعدہ آغاز ، متعدد دستاویز پر دستخط

Mar 29, 2017 08:46 PM IST | Updated on: Mar 29, 2017 08:46 PM IST

لندن : برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے نے آج برطانیہ کے یوروپی یونین چھوڑنے (بریکزٹ) کے دستاویز پر دستخط کردیئے جس کے ساتھ ہی یوروپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ برطانیہ میں 9 ماہ قبل یوروپی یونین سے الگ ہونے کے لئے کرائی گئی رائے شماری میں وہاں کے شہریوں نے یونین سے علیحدہ ہونے کے لئے ووٹ دیا تھا۔ محترمہ مے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے لئے اس کے بروسلز میں واقع صدر دفتر کو نوٹس بھیجیں گی۔ برطانیہ 1973 میں یوروپی یونین میں شامل ہوا تھا۔

رائے شماری کے بعد ہوئی سیاسی اتھل پتھل کے درمیان تھریسا نے برطانیہ کی وزیراعظم بن گئی تھیں اور ان کے پاس اب اسے لاگو کرنے کے لئے مارچ 2019 تک کا وقت ہے۔ آگے کی کارروائی میں اسے لسبن معاہدے کی دفعہ 50 کو نافذ کرنے ہوگا جس کے بعد دونوں فریقوں کو دو سال کے اندر علیحدگی کی شرائط پر متفق ہونا ہوگا۔ یہ دفعہ یوروپی یونین سے علیحدہ ہونے والے ممالک کے لئے بنایا گیا منصوبہ ہے جو لسبن معاہدے کا حصہ ہے اسے ستمبر 2009 میں لاگو کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں پوروپی یونین سے علیحدگی کا باقاعدہ آغاز ، متعدد دستاویز پر دستخط

وزیراعظم کے دفتر میں جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نے ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ یوروپی یونین سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ اب یہ ہمارے متحد ہونے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب چند ماہ قبل اس معاملہ میں میٹنگ کررہی تھی تو میں برطانیہ کے ہر شہری جوان، بوڑھے ، امیر، غریب ، شہر اور گاؤں کی نمائندگی کررہی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں 23 جون 2016 کو اس سوال پر رائے شماری کرائی گئی تھی کہ برطانیہ کو یوروپی یونین سے علیحدہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس میں 51 اعشاریہ 9 فیصد ووٹروں نے الگ ہونے کے حق میں رائے دی تھی جبکہ 48 اعشاریہ 1 فیصد لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ یوروپی یونین 28 ممالک کا اتحاد ہے جسے 1957 میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ یوروپی یونین کی اپنی کرنسی یورو ہے جس کا محض 19 ممالک استعمال کرتے ہیں لیکن برطانیہ نے اس کرنسی کو کبھی نہیں اپنایا اور پونڈ کو ہی اپنی کرنسی کے طور پر جاری رکھا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز