امریکہ اور روس کے تعاون سے جنوب مغربی شام میں جنگ بندی جاری

Jul 10, 2017 12:25 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 12:25 PM IST

بیروت۔ امریکہ اور روس نے جنوب مغربی شام میں جو جنگ بندی کرائی ہے اس پر پورے دن عمل درآمد ہوا۔ یہ اطلاع ایک نگراں اور باغیوں نے دی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت کی اس جنگ میں قیام امن کی یہ پہلی کوشش ہے۔ کل امریکہ ، روس اور اردن نے جنگ کو روکنے پر اتفاق کیا ہے جس سے لگتا ہے کہ ٹرمپ کو اس ہفتہ جرمنی میں جی 20 سربراہ کانفرنس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ پہلی ملاقات میں سفارتی کامیابی مل گئی ہے۔ جنگ کی نگرانی کرنے والی شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ کل دوپہر جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے وہاں خاموشی ہے گو کئی چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ لڑاکوں نے درعہ اور قونیترا میں نصف شب کے قریب تھوڑی دیر فائرنگ کی تھی مگر اس سے ’جنگ بندی‘ نہیں ٹوٹی۔

مغرب نواز باغی گروپوں کے اتحاد کے ترجمان میجر عسام الرئیس نے کہا کہ شام تک خاموشی رہی۔ علاقہ میں نسبتاً امن ہے۔ درعہ میں ایک باغی لیڈر نے کہا اردن سے متصل سرحد کے نزدیک منشیا محاذ پر خاموشی ہے جہاں حالیہ ہفتوں میں بہت بھاری بمباری ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے کل ٹوئٹ کیا ’شامی جنگ بندی برقرار ہے، بہت اچھا ہے‘۔ ایک شامی افسر نے جنگ بندی معاہدے کو دمشق حکومت کی منظوری کا اشارہ دیا اور حکومت کی خاموشی کو ’باعث اطمینان‘ بتایا۔ سرکاری افسر نے رائٹر سے کہا ’ہم ایسے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے جنگ رکے اور پرامن حل کے لئے راہ ہموار ہو‘۔ درعہ میں ایک عینی شاہد نے کہا کہ اس نے آسمان میں کوئی جنگی جہاز نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی دو پہر سے لڑائی کی آوازیں سنی ہیں۔

امریکہ اور روس کے تعاون سے جنوب مغربی شام میں جنگ بندی جاری

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت کی اس جنگ میں قیام امن کی یہ پہلی کوشش ہے: شام، فائل فوٹو

ٹرمپ نے  ٹوئٹ میں کل کہا تھا ’ہم نے شام کے کچھ حصوں میں جنگ بندی کرائی ہے جس سے وہاں لوگوں کی جان بچائی جا سکے گی۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور روس کے ساتھ تعمیری کام کرنا ہے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ جنگ بندی میں یہ بھی شامل ہے کہ ’’امدادی ایجنسیوں کو رسائی دی جائے اور خطہ میں اپوزیشن کے درمیان رابطے قائم ہوں۔ آج اقوام متحدہ کی مدد سے امن مذاکرات شروع ہونے والے ہیں ایسے میں اپوزیشن وفد کے ترجمان نے جنیوا میں کہا کہ ’یہ معاہدہ اس بات کا مظہر ہے کہ امن لانے کے لئے سنجیدہ بین الاقوامی کوشش کی جارہی ہے۔ یحیی آفریدی نے کہا’’روس انتظار کررہا ہے کہ امریکی حکمت عملی کوئی شکل اختیار کرے۔ ہمارا خیال ہے کہ امریکہ اس جنگ بندی کے معاملہ میں سنجیدہ ہے اور اسے شام کے دوسرے علاقوں میں بھی توسیع دی جا سکے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز