مدرسہ بورڈ میں  19 برسوں سے کام کررہے 10 ملازمین کو شیوراج حکومت نے دکھا یا باہر کا راستہ

Aug 02, 2017 11:45 PM IST | Updated on: Aug 02, 2017 11:45 PM IST

بھوپال: مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کا قیام 1998 میں عمل میں آیا تھا ۔ اس وقت بورڈ کے کام کاج کو دیکھتے ہوئے 32 ملازمین کو کلکٹریٹ پر رکھا گیا تھا ، لیکن وقت کے ساتھ مدھیہ پردیش مد رسہ بورڈ کے کام کاج پر بھی اثر پڑا اور بورڈ میں کم کام کے سبب اورلوک آیکت کی جانچ کے پیش نظر ملازمین کی تعداد کم کر کے 22 کر دی گئی ۔ یہ 22 ملازمین 19 سالوں سے بورڈ میں اپنی خدمت انجام دے رہے تھے ۔ مگر اب ایک مرتبہ پھر انتظامیہ نے لوک آیکت جانچ کا حوالہ دیتے ہوئے ان میں سے 10 ملازمین کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے، جس کے خلاف ملازمین نے کورٹ کا رخ کیا ہے ، جس پر سماعت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اسٹے لگا دیا ہے ۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ جس مقصد کے لیے مد رسہ بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا ، اس مقصد سے تو بورڈ دورہٹ گیا ہے ۔ نہ تو بورڈ سے مدرسوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور نہ ہی ان بچوں کو جو یہاں سے اپنی ادھوری تعلیم کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ مدھیہ پردیش مد رسہ بورڈ اب بس تنا زعوں کے لیے جانا جانے لگا ہے ۔

مدرسہ بورڈ میں  19 برسوں سے کام کررہے 10 ملازمین کو شیوراج حکومت نے دکھا یا باہر کا راستہ

وہیں مدرسہ بورڈ کے ملازمین کا کہنا ہے کی وہ 17۔18 سالوں سے بورڈ میں کام کر رہے ہیں ، مگر حکومت ہو یا انتظامیہ اس نے ملازمین کے بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز