جیل میں پاخانہ صاف کروایا ، غدار کہہ کر مارے تھپڑ ، پڑھیں غداری کے جھوٹے الزام میں گرفتار 15 مسلمانوں کی درد بھری آب بیتی

Jun 30, 2017 04:19 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 04:19 PM IST

برہان پور : چمپئنز ٹرافی میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کو ملی کراری شکست کے بعد خوشیاں منانے کے الزام میں گرفتار 15 لوگوں پر مدھیہ پردیش پولیس نے پہلے غداری کا معاملہ درج کیا تھا ، لیکن بعد میں کوئی ثبوت نہ ملنے پر تمام ملزموںسے کیس واپس لینا پڑا۔ تقریبا 10 دنوں تک جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوئے ان لوگوں نے میڈیا سے اپنا درد شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے قید میں پاخانہ صاف کروایا گیا اور کچھ قیدی ان کو غدارکہتے تھے۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گرفتار انیس بابو منصوری نے بتایا کہ جب ان لوگوں کو جیل لے جایا گیا ، تو وہاں کے تقریبا ایک درجن پرانے قیدیوں نے ہر کسی کے ساتھ مار پیٹ کی اور گالی گلوج کیا۔ منصوری پیشہ سے ایک درزی ہیں۔ منصوری نے اخبار کو بتایا کہ پولیس نے حراست میں ان کی پٹائی بھی کی تھی۔ پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر کی گئی پٹائی کے نشانات دکھاتے ہوئے منصوری نے اخبار کو بتایا کہ ہم مسلمان ہیں تو ہندوستانی بھی ہیں۔

جیل میں پاخانہ صاف کروایا ، غدار کہہ کر مارے تھپڑ ، پڑھیں غداری کے جھوٹے الزام میں گرفتار 15 مسلمانوں کی درد بھری آب بیتی

قابل ذکر ہے کہ ​​مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے تقریبا 350 کلو میٹر دور برہان پور گاؤں کے رہنے والے ان 15 لوگوں کے خلاف 18 جون کو ہوئے ہندوستان اور پاکستان میچ کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے الزام لگایا تھا کہ ان لوگوں نے ہندوستان کی شکست کے بعد آتش بازی کی تھی اور پاکستان حامی نعرے لگائے تھے۔ جب پولیس کو کوئی ثبوت اور گواہ نہیں ملا تو اس نے تمام 15 لوگوں پر غداری کا کیس ہٹاتے ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا معاملہ درج کر دیا۔ تاہم سبھی لوگوں کو 27 جون کو عدالت سے ضمانت مل گئی۔

جن 15 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کئے گئے ہیں ، ان میں سے دو کو چھوڑ کر باقی سبھی ان پڑھ ہیں اور دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ کچھ کے گھر میں نہ تو ٹی وی ہے اور نہ ہی موبائل۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے بعد پولیس دو تین دن گاؤں میں گھومتی رہی اور جسے دل کیا ، اسے اٹھا لیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز