ملک بھر میں محض 1707 سلاٹر ہاوس ہی لائسنس یافتہ ، 8 ریاستوں میں ایک بھی مذبح رجسٹرڈ نہیں ، آر ٹی آئی میں انکشاف

Apr 16, 2017 09:02 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 09:03 PM IST

اندور: اترپردیش میں یوگی حکومت آنے کے بعد راتوں رات غیر قانونی مذبح پر تالے لگ گئے۔ تابڑتوڑ کارروائی میں ہزاروں لوگ بے روزگار بھی ہو گئے۔ بحث غیر قانونی اور لائسنس یافتہ مذبح کے درمیان چھڑ گئی، لیکن آر ٹی آئی سے جو انکشاف ہوا ہے وہ چونکانے والا ہے۔ آر ٹی آئی سے ملی معلومات کے مطابق ملک بھر میں صرف 1707 سلاٹر ہاوسز ہی رجسٹرڈ ہیں۔

سب سے زیادہ لائسنس یافتہ سلاٹر ہاوسز تمل ناڈو، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں ہیں جبکہ اروناچل پردیش اور چنڈی گڑھ سمیت آٹھ ریاستوں میں ایک بھی لائسنس یافتہ مذبح نہیں ہے۔نیمچ کے ایک آر ٹی آئی کارکن چندرشیکھر گوڑ کے مطابق ایف ایس ایس اے آئی نے انہیں یہ اعداد و شمار فوڈ لائسنس اینڈ رجسٹریشن نظام کے ذریعہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر دیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں غیر قانونی مذبح کی تعداد کتنی ہوگی '۔

ملک بھر میں محض 1707 سلاٹر ہاوس ہی لائسنس یافتہ ، 8 ریاستوں میں ایک بھی مذبح رجسٹرڈ نہیں ، آر ٹی آئی میں انکشاف

اترپردیش میں سلاٹر ہاوس

آر ٹی آئی کے جواب میں ایف ایس ایس اے آئی نے بتایا کہ اروناچل پردیش، چنڈی گڑھ ، دادراو نگر حویلی، دمن اور دیو، میزورم، ناگالینڈ، سکم اور تریپورہ میں ایک بھی سلاٹر ہاوس رجسٹرڈ نہیں ہے۔ آر ٹی آئی سے ملی معلومات سے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوتا ہے کہ آٹھوں ریاستوں میں ایسا ایک بھی سلاٹر ہاوس نہیں ہے، جس نے مرکزی یا ریاستی لائسنس حاصل کر رکھا ہو۔

ایف ایس ایس اے آئی نے آر ٹی آئی کے تحت بتایا کہ تمل ناڈو میں 425، مدھیہ پردیش میں 262 اور مہاراشٹر میں 249 سلاٹر ہاوسز رجسٹرڈ ہیں۔ یعنی ملک کی کل 55 فیصد رجسٹرڈ سلاٹر انہی تین ریاستوں میں ہیں۔ اتر پردیش میں سرف58 سلاٹر ہاوس رجسٹرڈ ہیں۔

آندھرا پردیش میں ایک، انڈمان اور نیکوبار جزائر میں 9، آسام میں 51، بہار میں پانچ، چھتیس گڑھ میں 111، دہلی میں 14، گوا میں چار، گجرات میں چار، ہریانہ میں 18، ہماچل پردیش میں 82، جموں و کشمیر میں 23 ، جھارکھنڈ میں 11، کرناٹک میں 30، کیرالہ میں 50، لکش دیپ میں 65، منی پور میں چار اور میگھالیہ میں ایک سلاٹر ہاوس کو ایکٹ 2006 کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا ہے۔ اڑیسہ میں پانچ، پڈوچیری میں دو، پنجاب میں 112، راجستھان میں 84، اتراکھنڈ میں 22 اور مغربی بنگال میں پانچ سلاٹر ہاوس رجسٹرڈ ہیں۔

ادھر پیپلز فار دی اتھیکل ٹریٹمنٹ آف انیملس(پیٹا) انڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ملک میں غیر قانونی یا غیر لائسنسی مذبح کی تعداد 30000 سے زیادہ ہے۔ پیٹا انڈیا نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی ہے کہ ایسے مذبح کو بند کرایا جائے جن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز