بہوجن یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے پروگرام میں ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی کے ساتھ مسلم سماج کے دانشوران کی بھی شرکت

Nov 06, 2017 11:07 PM IST | Updated on: Nov 06, 2017 11:08 PM IST

بھوپال : مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات تو آئندہ سال ہوںگے ، لیکن ریاست کی سیاست میں نئی بساط بچھانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ بھوپال میں بہوجن یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے میں پہلی مرتبہ ایس سی ، ایس ٹی اور آدیواسیوں کے ساتھ مسلم سماج کو بھی ایک فرنٹ پرلانے کی کوشش کی گئی ۔ بھوپال کے جمبوری میدان میں منعقدہ اس پروگرام میں جس طرح سے ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی اور مسلم سماج کے لوگوں نے شرکت کی اور آپسی اتحاد کا مظاہرہ کیا ، اگر یہ اتحاد سماجی اور سیاسی اعتبار سے ریاستی اسمبلی انتخابات تک قائم رہا ، تو اس سے مدھیہ پردیش کی سیاست میں ایک نیا بدلاؤ ضرور دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش کی آبادی ساڑھے آٹھ کروڑ ہے۔ صوبہ کی آبادی میں اگر ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی اورمسلم سماج کی مجموعی آبادی پرنظرڈالیں تو کل آبادی میں ان کی آبادی کا تناسب تقریبا 81 فیصد ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بات ایک تلخ حقیقت کی طرح ہمارے سامنے ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے باوجود یہ چاروں سماج حاشیہ پر ہیں ۔ صوبہ میں نہ ان کی کوئی سیاسی شناخت ہے اور نہ ہی انہیں ترقی میں برابر کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ صوبہ کی سیاست میں اپنےاثر کو قائم کرنے اور اپنی سیاسی حصہ داری کو یقینی بنانے کے لئے بھوپال میں جلسے کا انعقاد کیا گیا۔

بہوجن یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے پروگرام میں ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی کے ساتھ مسلم سماج کے دانشوران کی بھی شرکت

بہوجن یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ مدھیہ پردیش کےاس پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں جہاں دلت، آدیواسی اورگونڈ سماج کے سوشل ریفارمر کے فوٹو اسٹیج پرلگائےگئے تھے۔ وہیں بہوجن یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی بڑی تصویرکو بھی لگایا گیا تھا۔

پروگرام میں شامل دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ جب تک صوبہ کا ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی اورمسلم طبقہ سیاسی اور سماجی طور پر آپسی اتحاد قائم نہیں کرے گا، تب تک اس کا استحصال ہوتا رہے گا۔ اس بھائی چارہ سمیلن کا انعقاد اسی لئے کیا گیا ہے تاکہ ان طبقات کے بیچ آپسی اتحاد پیدا کیا جا سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز