مندسور کلکٹر کے ساتھ مارپیٹ، کسان تحریک کی وجہ سے حالات آج بھی کشیدہ

Jun 07, 2017 12:36 PM IST | Updated on: Jun 07, 2017 12:36 PM IST

مندسور۔ مدھیہ پردیش کے مغربی حصے میں کسانوں کی تحریک کے درمیان مندسور ضلع میں حالات آج بھی کشیدہ ہیں اور مظاہرین نے کلکٹر سوتنتر کمار سنگھ کے ساتھ مارپیٹ تک کی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق کلکٹر ضلع کے بركھیڑاپنت گاؤں میں صبح مظاہرین کو سمجھانے گئے تھے تبھی کچھ لوگوں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ اس کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں کچھ لوگ ان کے ساتھ مار پیٹ اور زیادتی کر رہے ہیں۔ مندسور ضلع کے بركھیڑاپنت گاؤں میں کسانوں نے کل کی فائرنگ میں ہلاک ایک کسان کی لاش سڑک پر رکھ دی تھی۔ اس کی اطلاع ملنے پر کلکٹر مظاہرین کو سمجھانے پہنچے تھے۔ اسی دوران کچھ لوگوں نے کلکٹر کو پیچھے سے مارنا شروع کر دیا۔ وہ آگے بڑھتے رہے اور کچھ لوگ ان کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہوئے چلاتے رہے لیکن اچھی بات یہ رہی کہ ان ہی میں سے چند افراد انہیں بچا کر آگے لے گئے۔

مندسور ضلع کے پپليامنڈي میں کل تحریک کے پرتشدد ہونے کی وجہ سے پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور مبینہ طور پر فائرنگ بھی کی۔ فائرنگ کی وجہ سے کل چھ کسانوں کی موت ہوئی ہے اور دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات کے درمیان پولیس اور مظاہرین کے درمیان پپليامنڈي اور ارد گرد کے علاقوں میں جم کرتشدد ہوا۔ اس دوران ریاست کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے کل بھوپال میں میڈیا سے بات چیت میں دعوی کیا کہ پولیس کی گولیوں سے کسانوں کی موت نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کے حکم دیے گئے ہیں اور تحقیقات میں واضح ہو جائے گا کہ کس وجہ سے کسانوں کی موت ہوئی ہے۔ پرتشدد واقعات کی وجہ سے کل ہی مندسور ضلع ہیڈکوارٹر، پپليامنڈي اور کچھ دیگر علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود حالات قابو میں کرنے میں پولیس کو کافی مشقت کرنا پڑ رہی ہے۔

مندسور کلکٹر کے ساتھ مارپیٹ، کسان تحریک کی وجہ سے حالات آج بھی کشیدہ

مندسور ضلع کے علاوہ پڑوسی نیمچ اور رتلام ضلع میں اس تحریک اور اس کے بعد کے حالات کے درمیان حالات قابو میں رکھنے کے لئے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔انتہائی حساس  علاقوں میں اضافی پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ سینئر پولیس اور انتظامی افسران صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مندسور ضلع میں آج مہلوکین کے جنازہ کی تیاریوں کے درمیان حالات بہت نازک ہیں۔ مندسور، نیمچ اور رتلام اضلاع میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے منسلک خدمات کل سے ہی ٹھپ کر دی گئی ہیں۔ سیاسی پارٹی کے رہنماؤں پر بھی مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ اس دوران کانگریس کی سینئر لیڈر

میناکشی نٹراجن اور ان کے معاونین کو امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حراست میں لئے جانے کی اطلاع ہے۔ حالانکہ پولیس کے حکام سے اس سلسلے میں بات چیت نہیں ہو سکی ہے۔ مندسور ضلع کے ارد گرد کے اضلاع میں بھی کانگریس کے رہنماؤں پر نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ ریاست کے مغربی حصے کے کئی اضلاع میں یکم جون سے کسان تحریک کے درمیان بھارتیہ کسان یونین نے اجین میں چار جون کو تحریک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران ریاستی حکومت نے بھی کسانوں کے مفاد میں متعدد اعلانات کئے لیکن مندسور، نیمچ اور کچھ دیگر اضلاع میں تحریک نہیں رکی۔

دراصل اس تحریک میں متعدد کسان تنظیموں کے جڑے ہونے کی بات سامنے آ رہی ہے۔

وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس تحریک میں کچھ ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لئے سماج دشمن عناصر شامل ہیں اور وہ ہی حالات بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال مندسور ضلع کے حالات کو بہتر کرنا اس وقت ریاستی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز