بھوپال میں نوابی دور میں تھا چار بیت کا چلن، پھر سے چلن میں لانے کی کوشش جاری

May 23, 2017 05:55 PM IST | Updated on: May 23, 2017 05:55 PM IST

بھوپال۔  مدھیہ پردیش بھوپال میں چار بیت کو چلن میں لانےکی کوشش ہو رہی ہے ۔ اب بھوپال کا نوجوان بھی چاہتا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت چاربیت کو آگے لانے میں مدد کرے۔  ہندوستان میں چار بیت چارسو سال پرانی مانی جاتی ہے ۔ اور بھوپال میں چاربیت کا چلن افغان سردار دوست محد کی آمد سے بتائی جاتی ہے ۔ پر بھوپال کے نوابی دور کے ساتھ ساتھ  یہ ختم ہوتی  گئی۔ چار بیت مغل فوجیوں کے لئے ایک تفریح کا سامان ہوا کرتا تھا ۔ لیکن بعد میں یہ مقبول ہوئی اور انھیں  فارسی، پشتو کے علاوہ اردو ،ہندی اور برج زبان میں بھی لکھی جانے لگی ۔ چار بیت ایسا انوکھا فن ہے جس کی گائیکی میں ایک خاص رنگ ہے جو پیشکش کے وقت سامعین کو متا ثر کرتی ہے ۔ یہ عرب ،ایران اور افغا نستان سے ہوتی ہوئی  ہندوستان آئی اور یہاں کے لوگوں نے اس فن کو ہندوستانی رنگ دے کر نئے انداز میں آگے بڑھایا ۔ چار بیت ہر قسم کی شاعری دف ڈھپلی کی تھاپ پر مخصوص لے میں کئی راگوں میں گائی جاتی ہے ۔ حمد ، نعت پاک ،عشق ومحبت اور مزاحیہ کے علاوہ دو ماسہ ،چو ماسہ گانے کا رواج رہا ہے ۔

بھو پال میں اب چار بیت کو لے کر حکومت کے ساتھ چار بیت  پارٹیاں اسے بچانے میں لگی ہے اور چار بیت سے جڑا نوجوان  طبقہ چاہتا ہے چار بیت  پھولے پھلے اور اس سے  روزگار بھی مہیا ہو سکے ۔ بھوپال میں عام لوگوں کے ساتھ  چار بیت پارٹیاں چاہتی ہے کی  چار بیت  اب اسی طرح سے عام ہو جس طرح سے نوابی دور میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن  چار بیت کوزندہ رکھنے کے جذبے اور حکومت کی مدد کی ضرورت ہے ۔

بھوپال میں نوابی دور میں تھا چار بیت کا چلن، پھر سے چلن میں لانے کی کوشش جاری

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز