بھوپال انکاؤنٹر کو فرضی ثابت کرنے کیلئے خالد کی ماں نے ہائی کورٹ میں پیش کی سی ڈی

Jan 22, 2017 02:29 PM IST | Updated on: Jan 22, 2017 02:29 PM IST

جبل پور: بھوپال کی جیل سے مبینہ طور پر فرار ہوئے ممنوعہ تنظیم سیمی کے آٹھ ارکان کے مارے جانے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اب اس معاملہ میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ ہلاک آٹھ قیدیوں میں سے ایک کی ماں نے جبل پور ہائی کورٹ میں وہ آڈیو فوٹیج کی سی ڈی پیش کی ہے ، جس میں بھوپال پولیس فورس کی قیدیوں کو پیچھا کرنے کے دوران بات چیت کا حصہ ہے۔

اکسٹھ سالہ محمودہ بھوپال انکاؤنٹر میں مارے گئے محمد خالد کی ماں ہیں۔ انہوں نے ہی بھوپال ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے انکاؤنٹر کو فرضی بتایا تھا۔ ساتھ ہی ان پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کا مطالبہ کیا تھا ، جو اس نام نہاد انکاؤنٹر میں شامل تھے۔

بھوپال انکاؤنٹر کو فرضی ثابت کرنے کیلئے خالد کی ماں نے ہائی کورٹ میں پیش کی سی ڈی

ہندی سیاست ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق کیس کے وکیل نعیم خان نے عدالت کو اس فوٹیج کی سی ڈی سونپ دی ہے۔ سی ڈی کو عدالت میں سونپنے کے دوران جرح میں کہا گیا کہ اس بات چیت سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوٹیج میں بھوپال پولیس ہیڈکوارٹر اور قیدیوں کا تعاقب کرنے والی پولیس کی بات چیت ہے۔ اس بات چیت میں پولیس سے کہا جا رہا ہے کہ وہ وائرلیس فون کی بجائے اپنے موبائل سے بات کریں۔ استغاثہ کو لگتا ہے ایسا جان بوجھ کر اس لئے کیا گیا ، کیوں وہ وائرلیس فون سے ہوئی بات چیت کا ریکارڈ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز