بھوپال اجتماعی آبروریزی کیس میں لاپروائی کا انکشاف ، عصمت دری کو بتایا گیا رضامندی سے بنایا گیا تعلق

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں یو پی ایس سی کی تیاری کررہی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے معاملہ میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔

Nov 09, 2017 05:19 PM IST | Updated on: Nov 09, 2017 05:19 PM IST

بھوپال : مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں یو پی ایس سی کی تیاری کررہی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے معاملہ میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ لڑکی کی پہلی میڈیکل رپورٹ میں اجتماعی آبروریزی کی بجائے آپسی رضامندی سے بنایا گیا تعلق کی بات سامنے آئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ کا پہلا ٹیسٹ سلطانیہ اسپتال میں کیا گیا تھا اور یہاں جس خاتون ڈاکٹر نے چیک اپ کیا تھا ، اس نے اپنی رپورٹ میں اجتماعی آبروریزی کی بجائے آپسی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کا تذکرہ کیا تھا۔

تاہم اس معاملہ میں ہنگامہ ہونے کے بعد متاثرہ طالبہ کا دوبارہ میڈیکل چیک اپ کروایا گیا ، جس میں اجتماعی آبروریزی کی تصدیق کی گئی ۔ دوسری رپورٹ میں چار ملزموں کے ذریعہ آبروریزی کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

بھوپال اجتماعی آبروریزی کیس میں لاپروائی کا انکشاف ، عصمت دری کو بتایا گیا رضامندی سے بنایا گیا تعلق

خیال رہے کہ اس پورے معاملہ میں ابتدا سے ہی انتظامیہ کی لاپروائی سامنے آتی رہی ہے ۔ پہلے بھوپال پولیس متاثرہ طالبہ اور اس کے اہل خانہ کو ایف آئی آر درج کرانے کیلئے دن بھر چکر کٹواتی رہی اور پھرپولیس کے افسران اور ملازمین نے بار بار جائے واقعہ کا معائنہ اور بیان درج کرکے متاثرہ طالبہ اور اس کے اہل خانہ کو پریشان کیا ۔

قابل ذکر ہے کہ 31 اکتوبر کی دیر شام بھوپال میں آر پی ایف میں ملازم اے ایس آئی کی بیٹی کی چار ملزموں نے اجتماعی آبروریزی کی تھی ۔ واقعہ حبیب گنج آر پی ایف چوکی کے نزدیک پیش آیا تھا ۔ متاثرہ لڑکی نے اہل خانہ کے ساتھ مل کر خود ایک ملزم کو پکڑا اور پولیس کے حوالے کردیا ۔ پولیس نے اجتماعی آبروریزی کے تقریبا 24 گھنٹے بعد کیس درج کیا اور بعد میں جی آر پی نے مفرور چاروں ملزموں کو گرفتار کرلیا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز