Live Results Assembly Elections 2018

بھوپال گیس سانحہ: جب ایک گیس نے 23 ہزار لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا

بھوپال گیس سانحہ کو آج 34 سال پورے ہوگئے ہیں لیکن اس رات کی خوفناک یادیں لوگوں کے ذہن میں آج بھی زندہ ہیں

Dec 03, 2018 07:41 AM IST | Updated on: Dec 03, 2018 10:05 AM IST

بھوپال گیس سانحہ کو آج 34 سال پورے ہوگئے ہیں لیکن اس رات کی خوفناک یادیں لوگوں کے ذہن میں آج بھی زندہ ہیں۔ دو اور تین دسمبر 1984 کی درمیانی رات تھی کہ اچانک کھاد بنانے والی ایک فیکٹری سے زہریلی گیس لیک ہونا شروع ہوگئی۔ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

سپریم کورٹ کے مطابق بھوپال گیس سانحہ میں پندرہ ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ پانچ لاکھ 15 ہزار افراد اس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ بھوپال میں 34 برس قبل یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلی زہریلی گیس نے سب کچھ ختم کر دیا۔ اس دن 40 ٹن میتھائل  آئسوسائنٹ گیس کارخانے سے لیک ہوئی۔

بھوپال گیس سانحہ: جب ایک گیس نے 23 ہزار لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا

بھوپال گیس سانحہ: فائل تصویر

اس گیس سے ہوئی تباہی کا منظراتنا خطرناک تھا کہ اس سے متاثر لوگوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ تقریباََ 5.12 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ ان 3 دنوں میں بھوپال اور اس کے آس پاس کے علاقوں نے تباہی کا بےحد خوفناک منظر دیکھا۔ 3 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت پہلے دن ہی ہوئی۔ تاہم پورے گیس سانحہ میں تقریباََ 23 ہزار لوگ موت کی نیند سو گئے۔

Loading...

یہ تمام اعداد وشمار انڈین کاونسلنگ آف میڈیکل ریسرچ نے جاری کئے۔ 25 ہزار سے زیادہ لوگ اس گیس سانحہ کی زد میں آکر جسمانی طور پر پوری طرح سے معذور ہو گئے۔ علاوہ ازیں نہ صرف انسان بلکہ 2000 سے زیادہ جانور بھی اس گیس سانحہ کی زد میں آئے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز