ویاپم کے بعد اب شیوراج حکومت میں پیاز اور دال گھوٹالہ ، پیداوار سے زیادہ کی ہوئی خریداری

Jul 28, 2017 09:05 PM IST | Updated on: Jul 28, 2017 09:05 PM IST

بھوپال : وياپم کے بعد شیوراج سنگھ کی حکومت پر دالوں اور پیاز کی خرید میں اسکینڈل کے گھیرے میں نظر آرہی ہے ۔ دراصل ریاست کے سرکاری بابوؤں پر دو اضلاع سيهور اوردھار میں پیداوار سے زیادہ پیاز خریدنے کا الزام لگا ہے۔ الزامات کے مطابق ریاست کوآپریٹو مارکیٹنگ یونین کے افسروں نے کسانوں سے پیاز خرید میں کروڑوں کا گھوٹالہ کیا ہے۔ صوبے کی حکومت نے کسانوں سے 8 روپے کلو کے حساب سے 700 کروڑ روپے کی پیاز خريدی ۔ اب بتایا جارہا ہے کہ سيهور اور دھار ضلع میں جتنا پیاز خریدا گیا ، اتنا تو ان دونوں اضلاع میں پیدا ہی نہیں ہوا۔

الزامات کے مطابق مارکیفیڈ نے ڈیڑھ ہزار کسانوں سے 15 کروڑ میں 1200 ٹن توور اور 1500 ٹن مونگ دال خریدی گئی تھی۔ الزامات کے مطابق جن کسانوں سے یہ خریدا گیا ، ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ دستاویزات میں دال ڈھونے والی 300-400 ٹرالی نمبر ڈالے گئے ہیں۔ کسانوں کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ لیکن ان کے والد کا نام اور پتہ غائب ہے۔

ویاپم کے بعد اب شیوراج حکومت میں پیاز اور دال گھوٹالہ ، پیداوار سے زیادہ کی ہوئی خریداری

بازار میں اس وقت مونگ دال کی قیمت 3500 روپے کے ارد گرد ہیں جبکہ حکومت 5225 روپے کوئنٹل کے حساب سے خرید رہی ہے۔ توور کی بازاری قیمت 3500-4000 روپے کوئنٹل ہے، لیکن سرکاری قیمت 5050 روپے ہے۔ ریکارڈ کے مطابق 10 جون سے اب تک ریاستی حکومت نے سوا لاکھ کسانوں سے 1400 کروڑ روپے کی مونگ، اڑد اور توور دال کی خریداری کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز