بی جے پی کے خلاف ووٹ تقسیم نہ ہو، اس لئے ایس پی - بی ایس پی سے بات چیت: کمل ناتھ

Jul 10, 2018 09:59 PM IST | Updated on: Jul 10, 2018 09:59 PM IST

نیوز 18 سے خاص بات چیت میں مدھیہ پردیش ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف پڑنے والا ووٹ تقسیم نہ ہو، اس کے لئے بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی دونوں سے کانگریس کی بات چیت جاری ہے۔  

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور ممبرپارلیمنٹ کمل ناتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ بہوجن سماج پاٹی اور سماجوادی پاٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے ان کی بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔  حال ہی میں بی ایس پی کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ مدھیہ پردیش میں کسی سے بھی اتحاد نہیں کرے گی۔

سبھی 230 اسمبلی سیٹوں پراپنے دم پرالیکشن لڑے گی جبکہ اس سے پہلے کمل ناتھ نے انکشاف کیا تھا کہ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے لئے بات چیت جاری ہے۔ نیوز 18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف پڑنے والا ووٹ نہ تقسیم نہ ہو، اس کے لئے بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی دونوں سے کانگریس کی بات چیت چل رہی ہے۔

مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کے چہرے کی طاقت کو خارج کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی سے مقابلے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ شیوراج سنگھ کی شبیہ سے نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ بی جے پی امیدوار سے نہیں ہے، بلکہ ان کی تنظیم سے ہے۔ ایسے وزیراعلیٰ کی قیادت میں ہر طبقہ پریشان ہے، سب مایوس ہیں۔

07_2018/09-07-2018/kamalnath_full_interview.mp4

 

کمل ناتھ کو دو ماہ پہلے کانگریس نے مدھیہ پردیش کی کمان سونپی ہے، اس کے بعد مندسور میں راہل گاندھی کی ریلی کے سوائے، کانگریس ابھی تک انتخابی تشہیر کے موڈ میں نہیں آئی ہے۔ اب کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات کے لئے تشہیری مہم کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔  ہم ابھی 10-7 دنوں میں اس پر کام شروع کردیں گے۔ ہماری لڑائی بی جے پی کی تنظیم سے ہے، طاقت اور پیسے سے ہے۔ ہم میدان میں چلے جائیں اور پیچھے کوئی تنظیم نہ ہو،اس لئے ہم پوری تیاری کے ساتھ جارہے ہیں۔

دگوجے کا داغ

بی جے پی 2003 میں کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرکے مدھیہ پردیش کی اقتدار پر قابض ہوئی۔ وہ آج بھی سابق وزیراعلیٰ دگوجے سنگھ کے دوراقتدار کا حوالہ دیتی ہے۔ تب بی جے پی نے دگوجے سنگھ کو "مسٹر بنٹادھار" کا خطاب دیا تھا۔ بی جے پی کے پالیسی ساز دگوجے سنگھ کی اسی شبیہ کا استعمال اپنی انتخابی تشہیر میں کرتے ہیں، اس پر کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ کسی کی شبیہ سدھارنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، ہمیں کسی کی شبیہ نہیں سدھارنی، وہ 15 سال پہلے کی بات کرتے ہیں، تو ہم بھی تاریخ کی بات کرسکتے ہیں۔

 ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر کی تشہیر

مدھیہ پردیش میں کانگریس کے لئے ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر بھی انتخابی تشہیر کررہے ہیں، اس بارے میں کمل ناتھ نے کہا کہ ہم ان کا استعمال نہیں کررہے ہیں، وہ کانگریس کے رکن نہیں ہیں۔ ان کی تقریب میں کانگریس کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ ہاردک پٹیل اپنی مرضی سے اپنے این جی او کے ذریعہ تشہیر کررہے ہیں، وہ بی جے پی کا اصلی چہرہ سب کے سامنے لارہے یں، ہم تو چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کرتے رہیں۔

کمل ناتھ نے یہ بھی واضح کیا کہ مدھیہ پردیش میں دلت نائب وزیراعلیٰ کی افواہ میں کوئی دم نہیں ہے۔ پارٹی ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنے والی ہے۔ ریاستی انچارج دیپک بواریا کے نائب وزیراعلیٰ والے بیان کو کمل ناتھ نے مس کوٹ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ سوال کچھ اورتھا اور جواب کچھ اور۔ پھر بھی میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

شیوراج کا چہرہ نہیں رہا اثردار

کانگریس نے مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کے خلاف کوئی چہرہ پروجیکٹ نہیں کیا ہے۔ اس سوال پر کمل ناتھ کہتے ہیں "ہمارے پاس مایوس کسان چہرہ ہیں، بے روزگار نوجوان کا چہرہ ہے۔ غیرمحفوظ خواتین کا چہرہ ہے۔  کمل ناتھ کا دعویٰ ہے کہ اس بار مدھیہ پردیش میں تبدیلی ہوگی، وزیراعظم نریندر مودی اور شیوراج سنگھ چوہان کی پول کھل گئی ہے۔ ابھی راجستھان میں مودی جی کو کالے جھنڈے دکھائے گئے، میں نے واٹس اپ پر وہ تصویریں دیکھیں۔ 2 سال پہلے تو اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ باتیں اب دھیرے دھیرے سامنے آنے لگی ہیں، یہ عوام کی آواز ہے۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز