آبروریزی اور اغوا کیس : کانگریس لیڈر ہیمنت كٹارے کی تلاش میں بھوپال پولیس کا کئی جگہوں پر چھاپہ

Feb 12, 2018 03:27 PM IST | Updated on: Feb 12, 2018 03:27 PM IST

بھنڈ : مدھیہ پردیش کی بھوپال پولیس نے آبروریزی اور اغوا کے ملزم بھنڈ ضلع کے اٹیر سے کانگریس ممبر اسمبلی ہیمنت كٹارے کی تلاش میں ضلع میں واقع ان کے بہت سے کیمپس پر چھاپے مارے۔اس دوران بھوپال پولیس نے جگرام میں واقع كٹارے کی رہائش گاہ میں رکن اسمبلی کے پی اے ترلوکی كٹارے سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے پی اے کو پوچھ گچھ کے لئے 13 فروری کو بھوپال میں حاضر ہونے کا نوٹس بھی دیا ہے۔

بھوپال میں گزشتہ دنوں ایک طالبہ کی شکایت پر ممبر اسمبلی ہیمنت كٹارے کے خلاف آبروریزی اور اغوا کی رپورٹ درج ہوئی ہے۔اسی سلسلہ میں کل بھوپال سے آئی ٹیم کی قیادت کر رہے پولیس افسر راجیو جنگلے نے بتایا کہ دونوں معاملوں میں رکن اسمبلی کی تلاش ہے۔ ٹیم نے ممبرا سمبلی کی تلاش میں تین مقامات پر چھاپے مارے۔ ٹیم ممبر اسمبلی کے آبائی گاؤں مین پورہ بھی پہنچی۔ کسی بھی جگہ پر ممبر اسمبلی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی۔ اس دوران رکن اسمبلی کے پی اے نے بھوپال پولیس کو بتایا کہ ممبر اسمبلی ہیمنت كٹارے 18 جنوری کے بعد سے بھنڈ نہیں پہنچے۔

آبروریزی اور اغوا کیس : کانگریس لیڈر ہیمنت كٹارے کی تلاش میں بھوپال پولیس کا کئی جگہوں پر چھاپہ

کانگریس ممبر اسمبلی ہیمنت كٹارے۔ فائل فوٹو

اس سے قبل آبروریزی کے معاملہ میں پھنسے ہیمنت كٹارے اور انہیں بلیک میل کرنے کے معاملہ کے ملزم وكرم جيت کی تلاش میں کل ہی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بھوپال میں بھی تین مقامات پر چھاپے مارے، لیکن دونوں ہی اسے نہیں ملے۔

ممبر اسمبلی ہیمنت كٹارے نے کچھ عرصہ قبل بھوپال کی رہنے والی ایک لڑکی اور اس کے معاون وكرم جيت پر بلیک میل کرکے دو کروڑ روپے مانگنے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے لڑکی کو ان سے پانچ لاکھ روپے لیتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا اور عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا تھا۔ بعد میں اسے ضمانت مل گئی، جبکہ وكرم جيت اب تک فرار ہے۔ بلیک میلنگ کی ملزم لڑکی کی جیل سے بھیجی تحریری شکایت پر پولیس نے ہیمنت پر آبروریزی کا معاملہ درج کیا ہے۔ وہیں، لڑکی کی ماں کی شکایت پر ہیمنت کے خلاف اغوا اور جان سے مارنے کی دھمکی کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔اس معاملہ میں شروع سے اب تک کئی ویڈیو، آڈیو اور واٹس ایپ چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔ ان تمام معاملات کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز