بھوپال۔ اجین پسنجرٹرین میں دھماکہ دہشت گردانہ حملہ، تین ملزم حراست میں

Mar 07, 2017 10:57 PM IST | Updated on: Mar 07, 2017 10:57 PM IST

بھوپال۔  مدھیہ پردیش پولیس نے آج بھوپال اجین پسنجر ٹرین کی ایک بوگی میں دھماکے کے واقعہ کودہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں تین ملزمان کو ریاست کے پپريا کے قریب سے حراست میں لیا ہے۔ پولیس کے اعلی سطحی ذرائع نے يواین آئی سے بات چیت کے دوران اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال سے روانہ ہوئی ٹرین میں شاجاپور ضلع کے جبڑي اسٹیشن کے قریب صبح نو بج کر 50 منٹ پر ایک بوگی میں امونیم نائٹریٹ کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔ تاہم اس کی شدت بہت کم تھی اور زیادہ نقصان نہیں ہو پایا۔ اس حملے میں تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ذرائع نے کہا کہ اس واقعہ کے ساتھ ہی ریاستی پولیس کا انٹیلی جنس نظام، انسداد دہشت گرد اسکواڈ (اے ٹی ایس) اورپوری پولیس انتظامیہ فعال ہوگئی۔ اس بنیاد پر تین مشتبہ افراد کو ہوشنگ آباد ضلع کے پپريا سے حراست میں لیا گیا۔ یہ اطلاع فوری طور پر مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ہی پڑوسی اتر پردیش پولیس کو دی گئی اور اس تناظر میں اتر پردیش پولیس بھی بڑی کارروائی کر رہی ہے۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں پھیلے اس دہشت گرد نیٹ ورک کی منصوبہ بندی دونو ں ریاستوں کے ساتھ ہی ملک کے کئی مقامات پر ٹرین میں دھماکے کرنے کی تھی۔

بھوپال۔ اجین پسنجرٹرین میں دھماکہ دہشت گردانہ حملہ، تین ملزم حراست میں

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ ٹرین میں دھماکے کے واقعہ کے بعد سے ہی ہر لمحہ واقعات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور پولیس ڈائریکٹر جنرل رشی کمار شکلا سمیت اعلی حکام کو ضروری ہدایات دے رہے تھے۔ دھماکے کے واقعہ کے پیچھے کسی خوفناک سازش کا خدشہ سامنے آنے پر فورا اے ٹی ایس چیف سنجیو سمیع، بم ڈسپوزل ماہرین اور سینئر افسران کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔ خود پولیس ڈائریکٹر جنرل بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور حکام کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ ذرائع نے اس معاملے کی ابتدائی جانچ کے بعد بتایا کہ ٹرین میں گارڈ کی بوگی سے ملحقہ بوگی میں ایک اٹیچی میں امونیم نائٹریٹ پر مشتمل دھماکہ خیز مادہ رکھا گیا تھا۔ ٹرگر کے ذریعے اس میں دھماکہ کیا گیا۔ اس وجہ سے بھارتی یادو، سید اطہر حسین، جیا سنگھ، پشپا سنگھ کشواہا، نیہا یادو، بابو لال مالویہ، وسیم اور امرت ساہو سمیت تقریبا گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں، ان میں سے دو سےتین افراد کو علاج کے لیے بھوپال میں اور بقیہ کو شاجاپور ضلع کے شجال پور کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ذرائع نے کہا دھماکے کی آواز کے بعد سست روی سے چل رہی ٹرین کو روکا گیا اور متاثرہ بوگي کے مسافر بوگی سے کودنے لگے۔ دھماکے کی وجہ سے بوگی کا وہ حصہ بری طرح تباہ ہوگیا۔ فوری طور پر جائے حادثہ پرپہنچے سینئر پولیس افسران نے معاملے کو سمجھ لیا اور ریاستی پولیس نے فوری طور پرکاروائی کرتے ہوئے قصورواروں کی گرفتاری کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ اس واقعہ کے بعد سے بھوپال، سيهور، شاجاپور، اجین، دیواس اور ارد گرد کے اضلاع کی پولیس کے ساتھ ہی پوری ریاست میں پولیس کو الرٹ کر دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز