الورموب لنچنگ: بی جے پی ممبراسمبلی کا دعویٰ، بھیڑنہیں، پولیس کی پٹائی سے ہوئی اکبرکی موت

الورموب لنچنگ معاملے پربی جے پی ممبراسمبلی گیان دیو آہوجا نے دعویٰ کیا ہے کہ اکبر خان کا قتل بھیڑنے نہیں کیا بلکہ پولیس کی پٹائی سے ہوئی ہے۔

Jul 22, 2018 03:39 PM IST | Updated on: Jul 22, 2018 03:45 PM IST

راجستھان کے الورمیں گائے اسمگلنگ کے شک میں بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کردیئے جانے کے معاملے پر بیان بازی جاری ہے۔ اپنے بیانات کو لے کرسرخیوں میں رہنے والے بی جے پی ممبراسمبلی گیان دیوآہوجا نے بھی الورموب لنچنگ کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گائے اسمگلنگ کے شک میں اکبر خان عرف رکبرکی موت بھیڑ کی پٹائی سے نہیں، بلکہ پولیس کی پٹائی سے ہوئی ہے۔

بی جے پی ممبراسمبلی گیان دیو آہوجا کے رام گڑھ پولیس کے طریقہ کارپرسوال اٹھانے کے بعد راجستھان کے وزیر داخلہ غلام چند کٹاریا نے ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الور لنچنگ کے معاملے میں اگرپولیس بھی قصوروارثابت ہوئی، تو اس کے خلاف بھی مناسب کارروائی ہوگی، کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔

الورموب لنچنگ: بی جے پی ممبراسمبلی کا دعویٰ، بھیڑنہیں، پولیس کی پٹائی سے ہوئی اکبرکی موت

بی جے پی ممبراسمبلی گیان دیو آہوجا: فائل فوٹو

وہیں الورکے ایس پی راجیندر سنگھ سے جب اس بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملے میں بی جے پی ممبراسمبلی کے الزامات کی جانچ کرائیں گے، جو بھی پولیس افسر اس میں قصوروار پایا جائے گا، اس کےخلاف سخت کارروائی ہوگی۔

رائے گڑھ سے بی جے پی ممبراسمبلی گیان دیو آہوجانے کہا "گائے اسمگلنگ کے شک میں بھیڑنے رکبرخان کو صرف کچھ تھپڑمارےتھے، جب رکبرکو رام گڑھ تھانہ پولیس لے کرآئی، تو پولیس نے گاوں والوں کے سامنے ہی اس کی جم کر پٹائی کی۔ بی جے پی ممبراسمبلی کا دعویٰ ہے کہ ایسا کرکے پولیس نے لوگوں کے سامنے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ بھی گائے کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔

گیان دیوآہوجا نے کہا کہ مجھے مصدقہ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ رام گڑھ تھانہ پولیس نے پہلے ملزم کی گووند موڑپرپٹائی کی، پھرتھانے لاکربھی خوب مارا۔ ممبراسمبلی کے مطابق پولیس اکبرکو دیررات ایک بجے تھانے لے کرآئی تھی اور پھرتین گھنٹے تک اس کی جم کر پٹائی کی۔ اس کی حالت بگڑنے لگی تو صبح تقریباً 4 بجے اسے اسپتال لے کرگئی، جہاں راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔

گیان دیو آہوجا نے کہا کہ میں اس معاملے میں عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتا ہوں، جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ قتل بھیڑ نے کی ہے یا پھر اس کی موت پولیس پٹائی سے ہوئی ہے۔ ممبراسمبلی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اکبرکی موت کے بعد خود کو بچانے کے لئے پولیس نے گائے اسمگلروں کے خلاف معاملہ درج کرانے کے بہانے مبینہ گئورکشگ پرمجیت سنگھ اور دھرمیندر یادو کو تھانے بلایا، پھر گرفتار کرلیا۔ ان لوگوں نے پولیس کا تعاون بھی کیا اور گایوں کو گئوشالا تک بھجوایا تھا۔

آہوجا نے یہ بھی بتایا کہ اس سےقبل ایک سال پہلے رام گڑھ تھانہ میں پولیس نےجہان پور باشندہ ستنام سنگھ کو تھانے میں پیٹا تھا، جس سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ گیان دیو آہوجا کے مطابق اس کے الورمیں ہوئے پہلو خان معاملے میں بھی پولیس نے جن لوگوں کوزبردستی ملزم بنایا تھا، وہ جانچ میں باہر آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ الور کے رام گڑھ میں کچھ لوگوں نے جمعہ کو گائے اسمگلنگ کے الزام میں اکبر خان نامی شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔  معاملے میں ہفتہ کے روزدوملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ ملی تنظیموں اور مسلم رہنماوں نے اس معاملے پرسخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے تعاون کی بھی پیشکش کی ہے۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز